The news is by your side.

T20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا حیران کن سفر

آسٹریلیا میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم نے جس طرح اپنے سفر کے آغاز میں بڑا دھچکا کھایا، اسی طرح ٹیم پاکستان سیمی فائنل مرحلے سے آؤٹ ہونے سے بھی بال بال بچی، اور پوائنٹس گیم نے آخر کار اسے فائنل فور تک پہنچا ہی دیا۔

بھارت اور زمبابوے کے خلاف آخری گیندوں پر شکست پاکستانی شائقین کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی، اور ایسا لگتا تھا کہ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے سے قبل ابتدا ہی میں پاکستان کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں، لیکن اب بابر اعظم اور ان کی ٹیم سڈنی میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ٹکرائے گی۔

بھارت سے مقابلہ – 4 وکٹوں سے شکست

ابتدائی کھیل میں ہار ہمیشہ مایوس کن ہوتی ہے، لیکن ایک پُر ہجوم کراؤڈ کے سامنے بھارت جیسے روایتی حریف کے خلاف کھیل کا نتیجہ آخری گیند پر آنا واقعی دھڑکنیں تیز کر دیتا ہے۔

ویرات کوہلی والی بھارتی ٹیم کے ہاتھوں اس طرح ہارنے کے اثرات نے پاکستان کا توازن ہی بگاڑ دیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان ٹیم نے 12 ماہ قبل اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیا تھا۔

زمبابوے سے مقابلہ – ایک رن سے شکست

کچھ حوالوں سے زمبابوے کے خلاف آخری گیند پر شکست بھارت کے ہاتھوں شکست سے بھی زیادہ تباہ کن تھی، نیوزی لینڈ ایسی ٹیم تھی جسے شاہینز شکست دینے کی توقع رکھتے تھے، لیکن مڈل اور لوئر آرڈر نے میچ کو ایک دردناک شکست کی طرف دھکیل دیا۔

کسی ٹیم کو گروپ اسٹیج سے باہر جانے کے لیے اکثر 2 شکستیں کافی ہوتی ہیں۔ ایک شکست آسٹریلیا کو گروپ 1 میں سیمی فائنل میں جگہ دینے سے انکار کرنے کے لیے کافی تھی، اور اس کے نتیجے میں پاکستانی اسکواڈ افسردگی کا شکار تھا، وہ جانتے تھے کہ ان کو ٹورنامنٹ میں ایسی پوزیشن سے بچانے کے لیے کرکٹ کے معجزے کی ضرورت ہے۔

نیدرلینڈز سے مقابلہ – 6 وکٹوں سے فتح

اس میچ کے ساتھ پاکستان ٹیم جیت کی راہ پر چل پڑی، اور پاکستان نے اپنے رن ریٹ کو بہتر کرنا شروع کر دیا، بولرز نے ڈچ ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کرتے ہوئے جیت کی راہ ہموار کی، باس ڈی لیڈ کو چہرے پر چوٹ لگنے کے بعد ریٹائر ہونے پر مجبور کیا گیا، اور نیدرلینڈز کو انھوں نے صرف 91/9 تک محدود کر دیا، ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم نے اسے صرف 13.5 اوورز میں حاصل کر لیا۔

جنوبی افریقہ سے مقابلہ – 33 رنز سے فتح (DLS طریقہ)

یہ وہ میچ تھا جس نے پاکستان ٹیم کے کھیل کو خود اعتمادی دلائی، پاکستان کو معلوم تھا کہ فائنل تک پہنچنا ہے تو انھیں جیتنا ہے، اور انھوں نے جیتا۔ افتخار احمد اور شاداب خان کی شان دار نصف سنچریوں نے پاکستان کو 185/9 تک پہنچایا، اور محمد حارث کی جانب سے 11 گیندوں پر 28 رنز کی دھواں دار بیٹنگ نے اسے مستحکم کر دیا۔

شاداب خان نے خاص طور پر دلکش کھیل کھیلا، انھوں نے صرف 22 گیندوں پر 52 رنز بنائے، صرف یہی نہیں، جب وہ بولنگ کرنے آئے تو انھوں نے ٹیمبا باؤما اور ایڈن مارکرم کو آؤٹ بھی کیا۔ شاہین آفریدی نے 14 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں اور یوں پروٹیز کو ہدف کا تعاقب مشکل بنا دیا۔

دوسری طرف بارش نے بھی کھیل کو مختصر کر دیا تھا، لیکن میچ تاخیر سے پہلے جس پوزیشن پر تھا، اسے دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس سے صرف جنوبی افریقہ کی شکست کی شدت کم ہوئی۔

جنوبی افریقہ بمقابلہ نیدرلینڈز – ڈچ کی 13 رنز سے فتح

پاکستان جب ایڈیلیڈ میں گھبراہٹ کے ساتھ یہ میچ دیکھ رہا تھا، تو اسے شاید ہی اُس بات پر یقین رہا ہو جو انھوں نے ہوتے دیکھی، ڈچ کھلاڑیوں نے ایک اچھا اوپننگ اسٹینڈ دیا اور آخر میں کچھ پاور ہٹنگ نے انھیں 158 کے ہدف تک پہنچا دیا، اس ہدف کا دفاع ممکن تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اسے چیز کیا جا سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن جو ٹورنامنٹ میں کسی کو بھی شکست دینے کی طاقت رکھتی تھی، وہ 13 رنز کی شکست سے دوچار ہو گئی۔

پاکستان کو اسی اپ سیٹ نتیجے کی ضرورت تھی، اور پہلی بار اچانک پاکستان کی امید کا دیا پھر سے روشن ہونے لگا۔

بنگلا دیش سے مقابلہ – پانچ وکٹوں سے فتح

اس میچ میں شاہینوں نے دکھایا کہ وہ حریف کے مقابل ایک بڑی ٹیم ہیں، شاہین شاہ آفریدی نے اپنی گیند سے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو چیر کر رکھ دیا، انھوں نے 22 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں، اور ٹائیگرز کو 127 رنز تک محدود کر دیا۔ اگرچہ پاکستان نے میچ جیت لیا لیکن ہدف کے لیے ان کا تعاقب بہت سست رہا۔ رضوان اور بابر اعظم کی جوڑی کی جانب سے مایوس کن پرفارمنس جاری رہی۔

فائنل فور: نیوزی لینڈ کے ساتھ

اس میچ میں بہت کچھ شاہین اور شاداب کی بولنگ پر منحصر ہوگا، اگر پاکستان کے یہ بہترین بولرز ٹاپ آرڈر کی وکٹیں لے سکتے ہیں تو یہی چیز نیوزی لینڈ کو خاص طور پر کمزور بنا سکتی ہے، بابراور رضوان کی اوپننگ جوڑی سے امید کی جائے گی کہ وہ اپنی جدوجہد کو پیچھے چھوڑ دیں اور بڑے کھلاڑیوں کی طرح کھیل کر دکھائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں