The news is by your side.

Advertisement

مزید ممالک نے آکسفورڈ ویکسین کا استعمال روک دیا

ناروے میں ایسٹرا زینیکا کی ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں خون کے لوتھڑے بننے کی رپورٹس کے بعد مزید 5 یورپی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی، آئرلینڈ اور نیدر لینڈز نے بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق جرمن وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا کہ ابھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ویکسین کے استعمال اور بلڈ کلاٹس کی رپورٹس میں براہ راست تعلق موجود ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہم ویکسین کے حوالے سے کسی قسم کے شبہات کا موقع نہیں دیں گے، ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سب کچھ درست ہے، تو ویکسی نیشن کو کچھ وقت کے لیے روک دینا بہتر ہے۔

دوسری جانب فرانس کے صدر اور اٹلی کی میڈیسن اتھارٹی نے بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے، اس سے قبل آسٹریا، ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ کی جانب سے اس ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

ایسٹرا زینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ کلاٹس کی اولین رپورٹس آسٹریا میں سامنے آئی تھیں، جس سے تشویش کی لہر پیدا ہوئی اور کچھ یورپی ممالک نے اس کا استعمال تحقیقات کے اختتام تک روک دیا۔

شمالی اٹلی میں بھی ویکسین کا استعمال احتیاطی تدابیر کے طور پر 14 مارچ کو روک دیا گیا تھا اور وہاں اس کی خوراک لینے والے ایک ٹیچر کی موت کی وجہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کیا گیا۔

آئرلینڈ نے 13 مارچ کو ناروے میں ایک موت اور 3 افراد کے اسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسی نیشن روکنے کا اعلان کیا۔

ناروے کی میڈیسنز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کروائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔

آئرلینڈ کی ایڈوائزری کمیٹی کی سربراہ پروفیسر کترینہ بٹلر نے کہا کہ اس طرح کے دیگر کیسز یورپ کے دیگر حصوں میں بھی رپورٹ ہوئے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا ویکسین سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ بلڈ کلاٹس کے مزید واقعات سامنے آسکتے ہیں یا نہیں، مگر بظاہر یہ کم عمر افراد میں ہورہا ہے، جن میں ایسا ہونے کی توقع نہیں ہوتی اور اسی کا جواب جاننے کے لیے ویکسی نیشن کو روکا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں