اسلام آباد (14 جون 2026): وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ میں غریب آدمی کے لیے کوئی ٹیکسز نہیں ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ کسان، مزدور، تنخواہ دار اور ریٹیلرز کا بجٹ ہے اور موجودہ بجٹ میں غریب آدمی کیلیے کوئی ٹیکسز نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے بجٹ سے قبل تمام فریقین سے مشاورت کی۔ زرعی آلات کی درآمد پر ٹیکس ختم کر دیا گیا اور برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ ایک لاکھ تک تنخواہ لینے پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں جو مثبت اقدامات کیے، ان کی تعریف ہونی چاہیے۔ 50 ہزار تک ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جب کہ 50 ہزار سے ایک لاکھ تنخواہ والوں پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایف بی آر میں ریفارمز کیے ہیں۔ ٹیکس نہ دینے والے کا بوجھ پر اب ٹیکس دینے والا نہیں اٹھائے گا۔ 36 لاکھ ریٹیلرز ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، جنہیں ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہاؤسنگ اور ڈیولپمنٹ سیکٹر کو ریلیف دیا گیا ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہاؤسنگ اور ڈیولپمنٹ سیکٹر سے معیشت کا پہیہ تیز چلے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی تقریر میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرنے کے ساتھ پی ٹی آئی پر کڑی تنقید بھی کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں مہنگائی 28 اور شرح سود 22 فیصد پر تھی۔ انہوں نے ملک بچانے کی حکومتی پیشکش کو مسترد کیا تھا اور آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملک کے خلاف سازش کی تھی۔


