The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کا ملزم بری

پشاور: تحریک انصاف کے اقلیتی نشست پر منتخب رکن اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم بلدیو کمار کو عدالت نے باعزت بری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں بلدیو کمار سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، بلدیو کمار، سورن سنگھ کے قتل کے بعد صوبائی اسمبلی کے اقلیتی رکن بننے کے مضبوط امیدوار تھے۔

سردار سورن سنگھ قتل کیس کی سماعت بونیر ڈگر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کی، مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کو عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا، جن میں عالم خان، مختیارمحمد، سید جان، اکبر علی اوررفیروز خان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اقلیتی نشست پر منتخب رکن اسمبلی سورن سنگھ کو 22 اپریل 2016 کو ان کے آبائی ضلع بونیر میں موٹر سائیکل سواروں نے قتل کیا تھا جس کے فوراً بعد تحریک انصاف کے ضلعی کونسلر بلدیو کمار کو گرفتار کیا گیا۔

سورن سنگھ قتل کیس: چھ میں سے دو ملزمان نے اعترافِ جرم کرلیا

ابتدائی طور پر بلدیو کمار پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ انھوں نے صوبائی اسمبلی میں اقلیتی رکن بننے کے لیے اپنی ہی پارٹی کے رکن کو قتل کیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈی پی او بنیر نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے عالم خان اور فیروز خان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے بلدیو کے کہنے پر سورن سنگھ کو قتل کیا۔

ڈی آئی جی مالا کنڈ آزاد خان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف سوات ڈسٹرکٹ کے کونسلر بلدیو کمار نے سورن سنگھ کو پارٹی ٹکٹ کے تنازعے کے سبب قتل کرایا۔

سردار سورن سنگھ


سردار سورن سنگھ ڈاکٹر اور ٹی وی اینکر بھی تھے، 2011 میں تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل وہ جماعت اسلامی کے نو سال سے رکن رہے تھے، اور تحصیل کونسل پاکستان سکھ گوردوارا کے بھی رکن تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں