The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس ،برطانوی شواہد انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش

اسلام آباد : ایف آئی اے نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے برطانوی شواہد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کئے، جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو 9 اکتوبر تک مکمل شواہد اور گواہوں کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی ، جس دوران ایف آئی اے نے مقدمے میں برطانیہ کی جانب سے بھیجے گئے شواہد عدالت میں پیش کیے، جسے عدالت نے نامکمل قرار دے کر ایف آئی اے کو واپس کردیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ان شواہد کو پیش کرنے والے گواہ کون ہیں؟ گواہوں کی فہرست شواہد کا حصہ نہیں جب کہ جے آئی ٹی رپورٹ سربمہر نہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کو 9 اکتوبر تک مکمل شواہد اور گواہوں کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے برطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس کے تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ پاکستان نے برطانیہ کو ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

مزید پڑھیں : عمران فاروق قتل کیس: برطانیہ تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کیلئے رضامند

واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے گئے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاونڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے 2015ءمیں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اسی سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا

ایف آئی اے نے 2015 میں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور رواں سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور ملزم کاشف خان کامران کی موت ہو چکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں