site
stats
پاکستان

رکن قومی اسمبلی جمشید دستی جیل سے رہا

سرگودھا : انسداد دہشتگردی عدالت سے 6 مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جیل سے رہا کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ایک لاکھ روپےکے مچلکےجمع کرانے کے عوض ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا جس کے بعد ضروری کاغزی کرروائی مکمل کر کے انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔

جیل سے باہر آمد پر ان کے اہل خانہ اور اہل علاقہ نے پر جوش استقبال کیا انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے، پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیے گئے۔

اس موقع پر جمشید دستی نے بتایا کہ سیشن جج صاحب سرگودھا اور انسداد دہشتگردی عدالت کے جج صاحب یہاں پر آئے اور جیل میں مجھے بی کلاس دلوائی اور کھانا کھلایاجس پران کا شکر گذار ہوں۔

جمشید دستی کا کہنا تھا کہ جج صاحبان نے مجھ سے کہا یہ پاکستان کی اور پنجاب کی آزاد عدلیہ ہے وہ کسی سیاسی حکومت کی آلہ کار نہیں بلکہ میرٹ پر انصاف کرنے والے ہیں۔

بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا کہ جمشید دستی کی رہائی انتقام کی سیاست کے منہ پرطمانچہ ہے اورسلطنت شریفیہ کا تخت اب بکھرنا شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمشید دستی کی رہائی جعلی اورسفاک سلطنت کے زوال کی علامت ہے اورحکومت مخالفین پرجبرآزمانے کی بدترین رسم زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے جمشید دستی کی رہائی پر عمران خان کو کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جمشید دستی کی رہائی میں عمران خان نے کلیدی کردار ادا کیا جو دستی کی گرفتاری اور تشدد پر متفکر اور پریشان تھے۔

سرگودھا اے ٹی سی میں جمشید دستی کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، نیٹ سول سوسائٹی اور وکلاء نےجمشید دستی کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کیا اور مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بھی لگائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیشی کے موقع پر جمشید دستی نے روتے ہوئے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کہ پولیس کی حراست میں ان پر شدید تشدد کیا جارہا ہے، وہ 6 دن سے بھوکے ہیں اور انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔

خیال رہے کہ جمشید دستی کے خلاف مجموعی طور پر ستائیس مقدمات تھے،جن میں سے پانچ میں گرفتاری مطلوب تھی ۔

جمشید دستی پر مظفر گڑھ سول لائن تھانے میں دہشتگردی ایکٹ پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، جمشید دستی کی تقریباً تمام مقدمات میں ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔


مزید پڑھیں : قید میں شدید تشدد کیا جارہا ہے، 6 دن سے بھوکا ہوں: جمشید دستی


واضح رہے 8 جون کو عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو ڈنگا کینال کو زبردستی کھولنے ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے جبکہ اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں جمشید دستی کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

جمشید دستی مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے گزشتہ دو انتخابات سے کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2010 میں بی اے کی جعلی ڈگری کا الزام لگنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی احکامات کے بعد جمشید دستی نے دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو کر اسمبلی تک پہنچے۔ جمشید دستی نے سنہ 2012 میں پیپلز پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top