The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ساہیوال کیس ،مقتول خلیل کے بچوں اوربھائی کا ملزمان کو شناخت نہ کرنے کا بیان قلمبند

لاہور : انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ ساہیوال کیس پر سماعت ، مقتول خلیل کے بچوں اور بھائی نے ملزمان کو شناخت نہ کرسکنے کا بیان دے دیا جبکہ مقتول ذیشان کے بھائی کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ ساہیوال کیس کی سماعت کی، مقدمے کے ملزمان صفدر ، احسن، رمضان ، سیف اللہ ، حسنین اور ناصر نواز کو پیش کیا گیا ۔

عدالت کے روبرو مقتول ذیشان کے بھائی احتشام نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ۔ اس سے قبل مقتول خلیل کے بچوں عمیر اور منیبہ اور بھائی جلیل نے بھی بیان ریکارڈ کروایا جس میں عمیر اور منیبہ کا کہنا تھا کہ وہ ان اہلکاروں کی شناخت نہیں کر سکتے، جنھوں نے ان کے والد پر گولی چلائی جبکہ بھائی جلیل نے بیان دیا کہ وہ موقع پر موجود نہیں تھا اس لیے یہ نہیں بتا سکتا کہ واقعہ میں کون ملوث ہے ۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہان کو شھادتوں کے لیے طلب کر لیا۔

اب تک عدالت میں 12 گواہ اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔ سانحہ ساہیوال میں مقتولین کے ورثا کی درخواست پر ہائی کورٹ نے مقدمے کا ٹرائل ساہیوال سے لاہور منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ 19 جنوری کو ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی کے مبینہ جعلی مقابلے میں ایک بچی اور خاتون سمیت 4 افراد مارے گئے تھے، عینی شاہدین اور سی ٹی ڈی اہل کاروں‌ کے بنایات میں واضح تضادات تھا۔

وزیراعظم نے ساہیوال واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تحقیقات کرکے واقعے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا اور محکمہ داخلہ پنجاب نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی تھی۔

جی آئی ٹی نے خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا تھا جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں سانحہ ساہیوال میں ہلاک ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا چاروں افراد کو بہت قریب سے گولیاں ماری گئیں، قریب سے گولیاں مارنے سے چاروں افراد کی جلد مختلف جگہ سے جل گئی، 13 سال کی اریبہ کو 6 گولیاں لگیں، جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں