The news is by your side.

Advertisement

سرکاری ٹی وی حملہ کیس، عمران خان کو شامل تفتیش ہونے اور بیان ریکارڈ کرانے کا حکم

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی وی حملہ سمیت چارکیسز میں عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے پولیس افسر کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کا بھی حکم جاری کیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی وی حملہ کیس کی سماعت ہوئی، عمران خان کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کا آغاز ہوا تو بابر اعوان نے عمران خان کو حاضری سے استثنا دینے کی درخواست کی، جس پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت قبل از گرفتاری میں استثنا کی درخواست دی جا سکتی ہے؟

جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ٹرائل بہت اہم ہے لیکن استثنا مل سکتا ہے، ایف آئی آر میں عمران خان پر صرف اشتعال دلانے اور للکارنے کا الزام ہے۔

سرکاری وکیل چودھری محمد شفقات نے عمران خان کو حاضری سے استثنا دینے کی مخالفت کر دی۔

وکیل نے موقف اپنایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کو استثنا نہیں دیا جا سکتا، ملزم عمران خان عدالتی حکم کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہوئے، ملزم عمران خان نے کسی کے ہاتھ تفتیشی کے لیے ایک کاغذ بھجوایا تھا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہونا ضروری تھا، جہاں سوال و جواب ہونے تھے، جس پر بار اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنا تحریری بیان تفتیشی افسر کو جمع کرایا ہے۔


مزید پڑھیں : پی ٹی وی حملہ کیس: عمران خان کی ضمانت منظور


انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کو پولیس افسر کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کا حکم جاری کیا جبکہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کہا تفتیشی افسر بتائیں کہ عمران خان کب بیان ریکارڈ کرانے آئیں۔

عدالت نے ہدایت کی عمران خان کا چاروں مقدمات میں بیان ریکارڈ کیا جائے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت سات دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے رواں ماہ 14 نومبر کو سماعت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

واضح رہے کہ عمران خان کو پی ٹی وی حملے سمیت تین مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران عمران خان اور تحریکِ انصاف کے رہنماء عارف علوی کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو منظرِ عام پر آ ئی تھی، جس میں عمران خان مبینہ طور پر حملہ کرنے کا کہہ رہے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں