site
stats
پاکستان

ایم کیوایم لندن کا ٹارگٹ کلر را کا ایجنٹ نکلا، دس سال قید کی سزا

turbat
ریاض عرف لکڑ نے مخالف جماعتوں کے 9 کارکنان کو قتل کیا

کراچی : انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم لندن کے کارکن پرغیر قانونی طور اسلحہ و بارود رکھنے اور قتل و غارت گری میں ملوث ہونے پر 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے.

تفصیلات کے مطابق آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر ریاض عرف لکڑ کو پیش کیا گیا جس پر مخالفین کو قتل کرنے اور غیر قانونی اسلحہ و بارود رکھنے کا الزام تھا، مقدمے کی مکمل سنوائی کے بعد ملزم کو 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی گئی جب کہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر سزا کی مدت میں اضافہ کردیا جائے گا.

دوران سماعت پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجرم کے خلاف مزید 9 افراد کے قتل کے مقدمات مختلف عدالتوں میں بھی زیرسماعت ہیں، مجرم کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں مخالفین جماعتوں سنی تحریک، ایم کیوایم حقیقی اور پیپلز پارٹی کارکنان شامل ہیں.

پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ریاض عرف لکڑ نے 1994 میں بھارت سے دہشت گردی کی تربیت لی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے 9 کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارا جس پر ایم کیو ایم لندن نے ملزم کو شاباشی دیتے ہوئے کے ایم سی میں ملازمت بھی دلوائی.


 اسی سے متعلق : ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر سمیت 11 خطرناک ملزمان گرفتار، رینجرز

پبلک پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ملزم ریاض عرف لکڑ دراصل بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ ایجنٹ ہے جسے کراچی سے رینجرز کے عبد اللہ شاہ غازی ونگ نے حراست میں لیا تھا اور ملزم سے اسلحہ و بارود بھی برآمد کیا تھا اور دوران تحقیق ملزم نے ہوشربا انکشافات کیے تھے.

پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش رینجرز کو دیے گئے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ مخالف کارکنان کو ٹھکانے لگانے کی ہدایات لندن سے دی جاتی تھی اور وہ ایم کیوایم کی جانب سے مختلف موقع پر کی گئی ہڑتالوں کے دوران جلاؤ گھیراؤ، فائرنگ اور بھتہ خوری سمیت دیگر وارداتوں میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top