راولپنڈی : انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ سے متعلق درخواست خارج کردی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنادیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیے۔
وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں ذاتی معالج کی سہولت حاصل رہی، بانی پی ٹی آئی بھی سابق وزیراعظم ہیں اور برابری کے سلوک کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے علاج کی سہولت موجود نہیں اور بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہونے کے باعث ذاتی معالج سے میڈیکل چیک اپ کا حق رکھتے ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ رولز کے تحت علاج سے قبل بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو آگاہ کرنا ضروری ہے، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں بانی پی ٹی آئی کو کبھی جیل سے باہر نہیں لے جایا گیا۔
فیصل ملک نے سوال اٹھایا کہ ایسے کون سے غیر معمولی حالات تھے جن کے باعث بانی پی ٹی آئی کو رات گئے پمز منتقل کیا گیا، عدالت سے استدعا ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں رسائی دی جائے۔
دوسری جانب اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی نہیں ہیں، 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی ضمانت پر ہیں اور وہ اس کیس میں انڈر ٹرائل ملزم ہیں، قیدی نہیں۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ کرمنل کورٹ کے پاس ضمانت پر موجود کسی ملزم کی کسٹڈی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار نہیں، یہ کوئی آئینی عدالت نہیں بلکہ فوجداری عدالت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیدی کے علاج معالجے کے لیے حکومت ڈاکٹرز کا تعین کرتی ہے اور پاکستان پرزن رولز میں پرائیویٹ یا ذاتی معالج سے علاج کرانے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں رسائی دینے کی درخواست خارج کر دی۔


