The news is by your side.

Advertisement

اطہر متین کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے صحافیوں کا دھرنا، بھائی اور بیٹی کی بھی شرکت

کراچی: شہر قائد میں لوٹ مار کے ایک واقعے کے دوران مصروف سڑک پر لٹیروں کی واردات ناکام بناتے ہوئے جان دینے والے صحافی اطہر متین کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بڑی تعداد میں مرد اور خواتین صحافیوں نے آج پولیس آفس کے سامنے دھرنا دیا، جس میں اطہر متین کی بیٹی اور بھائی نے بھی شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق صحافی اطہر متین کے بہیمانہ قتل کے خلاف کراچی کے صحافی سراپا احتجاج بن گئے، منگل کے روز صحافیوں نے کراچی پولیس چیف کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، اور شاہراہ فیصل پر بھرپور احتجاج کیا۔

احتجاج میں اطہر متین کے ورثا سمیت سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد نے بھرپور شرکت کی، اور یک زبان ہو کر سندھ حکومت اور سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ اطہر متین کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

صحافی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ صوبائی وزرا اور سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران ڈرائنگ روم بریفنگز سے بڑھ کر میدان عمل میں اتریں، اور کراچی کے معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کریں، پولیس پہلے روز سے ہی صرف زبانی جمع خرچ کر رہی ہے۔

احتجاج کے بعد صحافیوں نے پولیس چیف کے دفتر کے باہر دھرنا پرامن طریقے سے ختم کر دیا، کمیٹی کے مطابق کل کراچی پریس کلب سے سندھ اسمبلی بلڈنگ تک صحافی تنظیموں کی جانب سے دوپہر 1 بجے احتجاجی مارچ ہوگا۔

مقتول اطہر متین کی بیٹی رمیسہ نے اور بھائی طارق متین نے بھی دھرنے میں شرکت کی، بیٹی رمیسہ نے کہا میں اپنے والد کے قاتلوں کی گرفتاری مطالبہ کرتی ہوں، ملزمان کو گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنایا جائے، مجھے اعلیٰ اداروں سے صرف انصاف چاہیے، آج میرے بابا گئے کل کسی اور کے بابا ہو سکتے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اپنے آفس سے اٹھ کر صحافیوں کے احتجاجی دھرنے میں آئے، فنکشنل لیگ کے جنرل سیکریٹری سردار رحیم، پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ، ایم کیو ایم کے وسیم اختر نے بھی دھرنے میں شرکت کی، صحافیوں نے بھرپور نعرے بازی بھی کی۔

عاجز جمالی نے شرکا سے کہا کل تک ہمارا جو دوست نشست پر بیٹھ کر کام کرتا تھا، آج ہم اس کے لیے تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں، احتجاج میں شرکت پر سب کے شکرگزار ہیں۔ سیکریٹری کراچی پریس کلب رضوان بھٹی نے کہا ہم اپنے دوست اطہر متین کے لیے جمع ہوئے ہیں جو ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، کراچی میں اس طرح کے واقعات بہت زیادہ ہیں لیکن رپورٹ بہت کم ہوتے ہیں، شہر کا کوئی علاقہ ڈاکوؤں سے محفوظ نہیں۔

انھوں نے کہا آج پہلا دھرنا ہے، مزید دھرنے کیے جاتے رہیں گے تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو، ہم نے پولیس کو تین دن کی مہلت دی تھی مہلت ختم ہونے کے بعد احتجاج کر رہے ہیں، کل ہم پریس کلب سے اسمبلی تک دھرنا دیں گے، جب تک تین نکاتی مطالبے پر عمل درآمد نہیں ہوتا احتجاج جاری رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں