The news is by your side.

Advertisement

قومی ترانہ بجنے پر امریکی کھلاڑی کی عجیب حرکت

اوریگن: قومی ترانے کے دوران پرچم سے منہ موڑنے والی سیاہ فام امریکی کھلاڑی گوین بیری کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست اوریگن کے شہر یوجین میں اولمپک ٹرائلز کے دوران جب قومی ترانہ بجایا جانے لگا تو ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائی کرنے والی ایتھلیٹ گوین بیری نے امریکی پرچم سے منہ موڑ لیا، پوڈیم پر کھڑی باقی دو کھلاڑیوں کا رخ پرچم کی جانب تھا جب کہ گوین بیری شائقین کی طرف رخ کر کے کھڑی ہو گئیں۔

اپنے اس عمل کے لیے انھیں تنقید کا سامنا ہے، تاہم گوین بیری 2019 کے پین امریکن گیمز میں بھی قومی ترانے کے دوران احتجاج کی وجہ سے مشہور ہوئی تھیں۔

گوین بیری ہیمر تھرو (ہتھوڑا پھینکنے) کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں، پوڈیم پر ان کے ساتھ پہلے نمبر پر آنے والی ڈی اینا پرائس اور دوسرے نمبر پر آنے والی بروک اینڈرسن بھی کھڑی تھیں، جب انھوں نے ایک بار پھر سیاہ فام شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک پر احتجاج کیا، اور ایک سیاہ رنگ کی شرٹ بھی دکھائی جس پر لکھا تھا ایکٹوسٹ ایتھلیٹ۔

اس احتجاج کے بعد بیری کو چند قدامت پسند حلقوں کی جانب سے سخت ردِ عمل کا سامنا ہے، ٹیکساس کے کانگریس کن ڈین کرین شا نے تو مطالبہ کیا ہے کہ بیری کو امریکا کی ٹیم سے نکال دینا چاہیے، سینیٹر ٹیڈ کروز کہتے ہیں کہ آخر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امریکا سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ سابق ری پبلکن صدارتی امیدوار اور ریاست وسکونسن کے سابق گورنر اسکاٹ واکر نے کہا ہے کہ آخر لوگوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ چاہے کسی بھی قسم کا اختلاف ہو، جب پرچم بلند ہوتا ہے تو سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔

تاہم دوسری طرف گوین بیری اس تنقید سے قائل ہوتی نظر نہیں آتیں، انھوں نے کہا لوگوں کے تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اب بھی بنیادی اخلاقیات پر حب الوطنی کو ترجیح دیتے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ سیاہ فاموں کے حوالے سے حالیہ اشتہارات، بیانات اور احساسات محض دھوکا تھے۔

بیری نے کہا میں نے کبھی نہیں کہا کہ مجھے اس ملک سے نفرت ہے، لوگ آپ کے منہ میں اپنے الفاظ گھسیڑتے ہیں، لیکن وہ اس میں ناکام ہوں گے۔

بیری کا کہنا تھا کہ قومی ترانہ جان بوجھ کر اس وقت شروع کیا گیا جب وہ پوڈیم پر موجود تھیں، حالاں کہ اسے ہماری آمد سے پہلے شروع ہونا چاہیے تھا لیکن جیسے ہی ہم پہنچے، انھوں نے ترانے کا آغاز کر دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں