The news is by your side.

Advertisement

کھلاڑیوں کو بھی امراض قلب کا خطرہ؟

ایک عام تصور ہے کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے کے باعث کھلاڑی اکثر بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ایک تحقیق میں یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ بعض کھلاڑی اپنی تمام تر جسمانی فعالیت کے باوجود امراض قلب اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

اٹلی میں کی جانے والی اس تحقیق میں 10 سال کے طویل عرصے تک مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والے 23 ہزار کھلاڑیوں کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے ان کھلاڑیوں کے مختلف اسکیننگ ٹیسٹ بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین لیے۔ نتائج سے پتہ چلا کہ 4 فیصد کھلاڑیوں کو دل کے مختلف امراض لاحق تھے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: برازیل کی آلودگی کے باعث کھلاڑیوں کی صحت کو سخت خطرہ

ماہرین نے دیکھا کہ ان کھلاڑیوں میں وہ امراض موجود تھے جن کا خطرہ جسمانی طور پر سرگرم رہنے کے باعث کم ہوتا ہے۔ ان میں کورنری آرٹری ڈیزیز (شریانوں میں مختلف مادے جمنے کا عمل جس سے خون اور آکسیجن کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے)، ہائی بلڈ پریشر اور دل کا غیر معمولی رفتار سے سست روی یا تیز رفتاری سے دھڑکنا شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان بیماریوں کی وجہ سے کچھ کھلاڑی کھیل کے لیے ہمیشہ کے لیے نا اہل ہوگئے جبکہ کچھ کو اس وقت تک کھیلنے سے روک دیا گیا جب تک ان کے طبی مسائل حل نہیں ہوتے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا کہ کھلاڑیوں میں مختلف بیماریوں کی شرح بے حد کم ہے تاہم یہ اچانک شدت کے ساتھ ظاہر ہو کر کھلاڑیوں کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: موت کے خطرے سے بچنے کے لیے تیراکی اور رقص کریں

ماہرین اس بات کا تعین کرنے میں ناکام رہے کہ آیا کوئی مخصوص کھیل یا کھیل کے دوران مخصوص حالات ہیں جو کھلاڑیوں میں مختلف بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ کھلاڑی باقاعدگی سے مختلف ٹیسٹ اور اسکریننگ کروا کر اپنے جسم میں پلنے والی بیماریوں سے باخبر ہوسکتے ہیں اور انہیں جان لیوا بننے سے پہلے قابو کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں