The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: متعدد بینکوں کے اے ٹی ایم کیوں بند ہیں؟

ریاض: سعودی عرب کے شہر جازان میں متعدد بینکوں کے اے ٹی ایم بند کر دیے گئے، بلدیہ حکام کے مطابق متعدد بینکوں کے برانچ کا لائسنس ختم ہوچکا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر جازان کی میونسپلٹی نے ضوابط کی پابندی نہ کرنے پر متعدد بینکوں کے اے ٹی ایم بند کر دیے ہیں۔

میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ جازان ریجن میں متعدد بینکوں کے برانچ کا لائسنس ختم ہوچکا ہے جبکہ بعض کے پاس اے ٹی ایم کی تنصیب کا اجازت نامہ نہیں ہے۔

میونسپلٹی کے مطابق بینکوں کے حوالے سے ریجن میں مجموعی طور پر مختلف قسم کے 65 لائسنس ختم ہوگئے ہیں جن کی تجدید نہیں کروائی گئی۔ شہر میں مختلف بینکوں کے 138 اے ٹی ایم ایسے ہیں جہاں ضوابط کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

میونسپلٹی کا کہنا تھا کہ ادارے نے متعلقہ بینکوں سے مطالبہ کیا تھا کہ اپنی کاغذی کارروائی مکمل کریں، ضوابط کی پابندی کریں اور لائسنس کی تجدید کروائیں۔

میونسپلٹی کی جانب سے کہا گیا کہ بینکوں سے یہ مطالبہ متعدد مرتبہ تحریری شکل میں ہوا ہے جس کا ثبوت ہمارے پاس موجود ہے مگر بینکوں کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بلدیہ نے بینکوں کی مسلسل خاموشی پر کارروائی کی ہے، ایسے تمام اے ٹی ایمز جہاں ضوابط کی پابندی نہیں ہو رہی وہاں رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں بند کر دیا ہے۔

دوسری طرف بلدیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریجن میں 25 بینکوں کی برانچز ایسی ہیں جن کے پاس لائسنس نہیں ہے، 65 برانچز کا لائسنس ختم ہوچکا ہے جبکہ 138 اے ٹی ایمز کا اجازت نامہ بھی مدت پوری کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لائسنس کے بغیر کام کرنے اور اجازت نامہ نہ لینے کے جرمانوں کی مجموعی رقم 30 ملین ریال سے تجاوز کر جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں