The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے، خرابیوں کے باوجود جہازاڑانے کی اجازت کا انکشاف

کراچی : پی آئی اے کے اے ٹی آر طیاروں کے انجنوں میں خرابی کوئی نئی بات نہیں۔ صرف چار برس میں اے ٹی آر کے انجنوں کے بند ہونے کے بیس واقعات پیش آچکے ہیں، انجن کی خرابیوں کا پہلے سے علم ہونے کے باوجود سی اے اے اور پی آئی اے کی مسلسل خاموشی اور غفلت کے باعث سینتالیس افراد جان سے گئے۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے اے ٹی آر طیاروں میں دوران پروازانجن میں خرابی کے حوالے سے اہم اورسنسنی خیزانکشافات سامنے آئے ہیں۔

سال دوہزارگیارہ سے اب تک اے ٹی آر طیاروں کے دوران پرواز انجن بند ہونے کے چھ واقعات رپورٹ ہوئے جو کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بھی بن سکتے تھے۔

دوہزارسات سے دوہزارگیارہ کے دوران صرف چار برس میں اے ٹی آر طیاروں کے انجنوں کے بند ہونے کے بیس واقعات مجموعی طور پر رپورٹ ہوچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب تک نوے مرتبہ پانچ طیاروں کے انجن تبدیل کئے جاچکے ہیں، خرابیوں کی نشاندہی پر انجن بنانے والی کمپنی نے پرواز کا دورانیہ ساٹھ فیصد کم کرنے کا مشورہ دیا تھا مگراسے نظر انداز کردیا گیا، جس کی وجہ سے یہ سلسلہ نہ رکا اور سی اے اے بھی مسلسل خاموش رہی۔

انجن کی خرابیوں کا پہلے سے علم ہونے کے باوجود سی اے اے اور پی آئی اے کی مسلسل خاموشی اور غفلت کے باعث حویلیاں حادثے میں سینتالیس افراد جان سے گئے۔

سی اے اے کو ان حالات کا پہلے سے علم تھا، اس کے باوجود سی اے اے اور پی آئی اے کی غفلت کے سزا 47 گناہ افرد کو بھگتنا پڑی۔ چترال حادثے کے بعد سول ایوی ایشن پاکستان نے پی آئی اے کے اے ٹی آرطیاروں سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا۔

حادثے کے بعد سی اے اے ایئروردنیس ڈپارٹمنٹ کو شامل تفتیش کرانے کیلئے ماہرین کاایوی ایشن ڈویژن پر دباؤ جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں