site
stats
اہم ترین

خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج

attack at khuwaja Izhar

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اوراپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر گزشتہ روز ہونے والے قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے‘ جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے ملزم کے والد اور دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ اظہار پر نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد ہونےو الے حملے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے درج کیا ہے ‘ حملے میں ایم کیو ایم رہنما محفوظ رہے تھے جبکہ دو افراد شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔

قاتلانہ حملے کا مقدمہ تیموریہ تھانے میں ایس ایچ او جمال لغاری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے‘ ایف آئی کے متن کے مطابق حملے کے بعد پولیس موبائل نے ملزم کا تعاقب کرکے اسے نشانہ بنایا‘ زخمی ہوکر ملزم گرا اور عوام نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جو بعد ازاں دم توڑ گیا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ تین حملہ آوروں نے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہا ر الحسن پر اندھا دھند فائرنگ کی ‘ ایم کیو ایم رہنماءکارروائی میں محفوظ رہے۔

خواجہ اظہار پرحملہ آورملزم کے گھر پر چھاپہ‘ والد گرفتار*

 خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے میں ملوث ایک ملزم کی شناخت حسان کے نام سے ہوئی ہے‘ مذکورہ ملزم پولیس کی مبینہ جوابی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

حسان نامی اس ملزم کے سہراب گوٹھ میں واقع گھر پرچھاپہ مار کرقانون نافذ کرنےوالےاداروں نےملزم کےوالد اوردیگرافرادکوحراست میں لےلیا ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ حملےمیں کون ساگروپ ملوث ہے،ابھی نہیں کہاجاسکتاہے‘ قیاس آرائیوں سےتفتیش متاثرہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی دھڑےبندی کےبعدایم کیوایم پاکستان کوخطرات سےآگاہ کیاتھا۔

خواجہ اظہار الحسن کا ا س واقعے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے انٹرویو میں کہنا تھاکہ ممکن ہے ان پر حملے کی منصوبہ بندی میں ایسے لوگ شامل ہوں جو ان کے قریب ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے نماز کے شیڈول اور جگہ کو خفیہ رکھا تھا۔

دوسری جانب انہوں نے خود پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ایم کیو ایم لندن کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top