The news is by your side.

Advertisement

مدرسے پر حملہ اسلام دشمنی ہے، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے، دہشت گردوں کانشانہ عبادت گاہیں،تعلیمی ادارےاورشہری ہیں، دشمن نےمذموم عزائم کودوبارہ پروان چڑھانےکیلئےبچوں پرحملہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپردیر مالاکنڈ ڈویژ ن کا دورہ کیا۔کورکمانڈر پشاور کورلیفٹیننٹ جنرل نعمان محمودنےآرمی چیف کااستقبال کیا۔

آرمی چیف کو اسٹیبلائزیشن آپریشن اور بارڈرمینجمنٹ پربریفنگ دی گئی،آرمی چیف نے سنگلاخ اور دشوار علاقے میں بارڈر فینسنگ پر کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت اوربارڈرمینجمنٹ امن کےعزم کی عکاس ہیں۔

آرمی چیف نےعلاقےمیں امن کےقیام کیلئےکوششوں پرخراجِ تحسین پیش کیا اور شرپسندعناصرکی جانب سےحالیہ دہشت گردی کےتناظرمیں چوکنارہنےکی ہدایت کی۔

آرمی چیف نےلیڈی ریڈنگ اسپتال میں مدرسہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی اور زخمی بچوں اور دیگر افراد کی صحت سےمتعلق دریافت کیا۔

آرمی چیف نےلیڈی ریڈنگ اسپتال میں

مدرسہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی

اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ 16دسمبر2014 کو اے پی ایس میں معصوم بچوں کوٹارگٹ کیاگیا، دشمن نےمذموم عزائم کودوبارہ پروان چڑھانےکیلئےبچوں پرحملہ کیا، زخمیوں میں افغان مہاجرین کےبچوں کی بڑی تعدادبھی شامل تھی۔

آرمی چیف نے کہا کہ قوم نےدہشت گردوں کےبیانیےکومسترد کر کے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا اور آج بھی ہم اسی جذبے کے تحت ایک ہیں، یکجہتی اوراظہارعزم کیلئےبچوں،اساتذہ اورخاندانوں کا دکھ بانٹنےآیاہوں۔

آرمی چیف نے اس عزم کا اعائدہ کیا کہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، دہشت گردوں کوکیفر کردار تک پہنچائےبغیرچین سےنہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اورپاکستا ن نےپچھلی دودہائیوں میں دہشت گردی کاسامناکیا، پاکستان نےمہاجرین بھائیوں کیلئےدل اوردروازےکھول دیئے، ہمیشہ افغان بھائیوں کےدکھ اورسکھ میں شریک ہیں افغانستان اورپاکستان کاامن ایک دوسرےسےجڑاہے جب کہ دہشت گردی کاکوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردوں کانظریہ دہشت اورمعاشرےمیں خوف پیداکرناہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے، دہشت گردوں کانشانہ عبادت گاہیں،تعلیمی ادارے اورشہری ہیں، پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن کاخواہاں ہےاورتعاون کرتارہےگا، افغان مہاجرین کوبھی دشمن قوتوں سے چوکنااور دوررہناہوگا، چوکنااس لیےرہناہوگاکہ دانستگی اورنادانستگی میں استعمال نہ ہوسکیں۔

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈرفینسنگ امن کی باڑہے، دہشت گردوں کی دونوں اطراف نقل وحرکت روکنے کیلئےباڑبنائی گئی، پاک افغان موجودہ حالات بد امنی اورانتشارکےمتحمل نہیں ہوسکتے بد امنی اورانتشارکےمتحمل ہوئے تواس کےخطرناک نتائج ہوں گے، دل پہلےبھی ساتھ دھڑکتےتھےاوراب بھی آپس میں جڑےہیں، ہمہ جہتی اور اتحاد ہی وقت کی ضرورت ہے آنےوالی نسلوں کو محفوظ، مستحکم اورخوشحال پاکستان کیلئےکوشاں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں