مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں‌ جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں‌ جاں بحق

اسلام آباد: راولپنڈی میں جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔

نمائندہ اے آر وائی کے مطابق اسلام آباد کے علاقے تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ اُن کی رہائش گاہ پر ہوا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے، انہیں راولپنڈی کے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مولانا سمیع الحق پر موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کیا جبکہ بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کو گھر پر چھریوں کے وار سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

بیٹے مولانا حامد الحق نے والد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔ صاحبزادے مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ ’مولاناسمیع الحق گھر پر آرام کررہے تھے کہ اسی دوران اُن پر حملہ ہوا، نامعلوم افراد نے چھرے سے کئی وار کر کے انہیں نشانہ بنایا‘۔

نماز جنازے کا اعلان

اہل خانہ نے مولانا کا پوسٹ مارٹم سے انکار کردیا جبکہ اُن کے جسد خاکی کو مدرسے اکوڑہ خٹک منتقل کی جارہی ہے جہاں مقتول کی نماز جنازہ کل دوپہر 2 بجے ادا کی جائے گی جبکہ تدفین آبائی علاقے نوشہرہ میں کی جائے گی۔

ابتدائی تفتیش

پولیس ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں اُن کے کمرے میں پہنچیں اور فرانزک لیب کے ماہرین نے تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر شواہد اکھٹے کیے۔

تفتیشی ٹیم نے مقتول رہنما کے زیر استعمال اور کمرے کی چیزوں سے فنگر پرنٹس کے شواہد لیے جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ روم سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ڈیٹا بھی حاصل کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملازمین،گارڈزباہر کھاناکھانے گئےتودروازہ بند کرکے گئے تھے، قتل کی واردات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل کا گھر میں آنا جانا تھا۔ تفتیشی ٹیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مولانا کے گھر میں توڑ پھوڑ کا کوئی نشان موجود نہیں ہے‘۔

پولیس نے شک کی بنیاد پر محافظ اور باورچی کو تفتیش کے لیے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق جمعیت علماء اسلام (س) کے بانی اراکین میں سے تھے انہوں نے مفتی محمود کے ساتھ بھی کام کیا، بعد ازاں آپ دو مرتبہ سینیٹر بھی بنے اور متحدہ مجلس عمل سمیت دفاع پاکستان کونسل کی داغ بیل بھی ڈالی ۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے مقتول سربراہ نے پارلیمانی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں