The news is by your side.

Advertisement

پنجاب بار کونسل پر دھاوا، وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

لاہور: پنجاب بار کونسل پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کے لیے وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق انکوائری کے لیے طلب کرنے پر مشتعل وکلا نے نامعلوم افراد کے ساتھ لاہور میں پنجاب بار کونسل کے دفتر پر دھاوا بول دیا، بار کونسل میں توڑ پھوڑ اور خوف و ہراس پھیلانے پر 8 وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس نے وکلا کے خلاف سول لائن تھانے میں سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، مقدمے میں دہشت گردی، جان سے مارنے کی دھمکیاں، توڑ پھوڑ اور ناجائز اسلحہ رکھنے کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمے میں نامزد کیے گئے ملزمان میں 2 خواتین سمیت 8 افراد شامل ہیں، نامزد ملزمان نے پنجاب بار کونسل کے عملے سمیت دیگر افراد پر تشدد کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔

ملزمان کو سوشل میڈیا پر ججز اور وکلا سے متعلق تضحیک آمیز پوسٹ اپلوڈ کرنے پر طلب کیا گیا تھا، مقدمہ سیکریٹری پنجاب بار کونسل اشرف راہی کی مدعیت میں درج کیاگیا ہے۔

مقدمہ متن کے مطابق مسلح ملزمان نے پنجاب بار کونسل انکوائری کی درخواست واپس لینے کے لیے دھمکیاں دیں، ملزمان نے پنجاب بار کے اسٹینو، سیکشن آفیسر اور دیگر عملے کو یرغمال بنایا، پولیس کی مداخلت کے بعد ملزمان کی گرفت سے تمام افراد کو بازیاب کرایا گیا۔

پولیس نے حملے میں ملوث ملزمان سے اسلحہ اور دیگر سامان قبضے میں لیا، مقدمے میں عامر، ندیم، نسرین چوہان، حنا رحمان، کرامت، ساجد، علی نفیس اور مختار نامزد کیے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں