site
stats
پاکستان

صوفی بزرگوں کے مزارات پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

کراچی : شدت پسندی کی لہر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے شروع ہوئی اور اس دوران صوفی بزرگوں کے متعدد مزارات اور درگاہیں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنیں، 2005 سے اب تک سوفی بزرگوں کے مزارات پر 29 حملوں میں 209 افراد جاں بحق جبکہ 560 زخمی ہوچکے ہیں۔

صوفی بزرگ لعل شہبازقلندر کے مزار پر خود کش حملے نے پاکستان بھر کے عوام کو ہلاکر رکھ دیا، ماضی میں بھی مزارات و درگاہیں امن دشمنوں کے حملوں کانشانہ بن چکی ہیں۔

بری امام مزار

مارچ 2015 میں بری امام اسلام آباد میں سالانہ عرس کے موقع پر خودکش دھماکے میں بیس افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

1

حضرت باب ابو سعید، رحمان بابا کے مزارات

مارچ 2007 میں پشاور کی نواح میں قائم 400 برس پرانے حضرت باب ابو سعید کے مزار پر حملے میں 10 دیہاتی جاں بحق ہوگئے تھے۔

خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل میں 11 مئی 2009 مقبول پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔

پشاور میں مارچ 2009 میں صوفی شاعر رحمان بابا اور نوشہرہ میں بہادر بابا کے مزارات پر حملے ہوئے۔

2

داتا دربار

جولائی 2010 میں لاہور میں واقع عظیم صوفی بزرگ سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر 2 خود کش حملوں میں 45 افراد جاں بحق ہوئے۔

66

عبداللہ شاہ غازی کے مزار

کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں آٹھ اکتوبر 2010 کو دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور 55 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

shah-gazi-3

دربار بابا فرید الدین شکر گنج شکرؒ

اکتوبر 2010 میں پاکپتن میں واقع دربار بابا فرید الدین شکر گنج شکر کے احاطے میں حملے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے ۔

baba

حضرت سخی سرور کے مزار

ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر چار اپریل 2011 کو ہونے والے دو خود کش حملوں میں 43 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

33

غلام شاہ غازی کے مزار

فروری 2013 میں شکار پور میں غلام شاہ غازی کے مزار پر حملے میں 4 افراد جاں بحق  جبکہ 27 افراد زخمی ہوئے ۔

جھل مگسی فتح پور

دسمبر 2012 میں خیبر ایجنسی، سید بابا مزار ضلع جھل مگسی میں فتح پور کے مقام پر ایک مزار پر ہونے والے ایک حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

دربار شاہ نورانی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں 13 نومبر 2016 کو دربار شاہ نورانی میں ہونے والے ایک دھماکے میں 54 افراد ہلاک ہوئے تھے، حملے کے وقت عرس میں شرکت کے لیے ہزاروں زائرین دربار پر موجود تھے۔

5

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top