The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں ایک اور ننھی کلی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

ملک کے سب سے بڑے صوب پنجاب میں بچوں کو اغوا وزیادتی کے بعد قتل کرنے کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے ، صوبائی حکومت کی جانب سے ان واقعات کی روک تھام کے باوجود اس طرح کے واقعات نے بچوں سمیت والدین کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز شیخوپورہ میں بچے کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کی خبر منظر عام پر آئی تھی کہ آج اٹک میں ننھی کلی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق دلخراش واقعہ اٹک میں پیش آیا، جہاں چھچھ انٹرچینج کے قریب سے آٹھ سالہ بچی کی لاش ملی، بچی کو نامعلوم درندوں نے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد پھندا ڈال کر ابدی نیند سلادیا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چی رات کو اپنے والدہ کے ساتھ منگنی کی تقریب میں گئی تھی، رات گئے ہونے والی تقریب کے دوران بچی لاپتہ ہوگئی تھی، جس کی لاش آج صبح ملی ۔

بچی کی شناخت فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے حضرواسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شیخوپورہ میں پانچ سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لواحقین سراپا احتجاج

اسی طرح کا ایک اور دلخراش واقعہ گذشتہ روز شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف کے ڈھامکے میں پیش آیا، جہاں پانچ سالہ عبدالرحمن گزشتہ شام مدرسہ سے واپسی پر لا پتہ ہوا، بچے کی گمشدگی پر اہل خانہ نے فوری طور پر مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی،تلاش بھی کی گئی مگر ناکامی ہوئی۔

آج صبح بچے کی ہاتھ پاوں بندھے ہوئی لاش برآمد ہوئی، واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے حادثے پر پہنچی اور بچے کی لاش کو تحویل میں لے کر میڈیکل کے لیے اسپتال روانہ کیا اور جگہ کو سیل کردیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں