The news is by your side.

Advertisement

سمجھ نہیں آتی مشرف کے خلاف فیصلہ عجلت میں کیوں دیا گیا، اٹارنی جنرل انور منصور

اسلام آباد: اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے کہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی مشرف کے خلاف فیصلہ عجلت میں کیوں دیا گیا، ٹرائل کا موقع ہر ملزم کو پورا دیا جاتا ہے، وقت گزرنے اور کیس نہ چلنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرمنل کیسز 12 سے 18 سال زیر التوا رہتے ہیں، مقدمے میں فریق بننے کی بیوروکریٹس کی درخواست بھی مسترد کی گئی، کوئی کہے کہ عدالت آزاد ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی حق نہ دے۔

انور منصور نے کہا کہ حکومت ناانصافی کے خلاف کھڑی ہوگی، کسی بھی شخص کو فیئر ٹرائل نہ ہونے پر سزا نہیں دی جاسکتی ہے، عدالت نے مشرف کو ویڈیو لنک سے بیان کی اجازت بھی نہیں دی، کمیشن کو باہر بھیج کر بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا بھی مسترد کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف اس وقت بیمار ہیں اور آئی سی یو میں ہیں، غیرموجودگی میں سزا دی گئی، کیا جلدی تھی فیصلہ سنانے کی، عدالتیں آزاد ہیں لیکن وہ قانون سے بالاتر فیصلہ نہیں کرسکتیں۔

انہوں نے کہا کہ کمال کی بات ہے جو فیصلہ سنایا اب تک کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے، آرڈر وہ نہیں ہوتا جس پر کسی کے دستخط نہیں ہوتے، چوہدری شجاعت کی فریق بننے کی درخواست بھی عدالت نے مسترد کی۔

انور منصور نے کہا کہ ناانصافی اس ملک کے لیے ایک عذاب ہے، موجودہ حکومت کا موقف ہے ہر شخص کو انصاف ملنا چاہئے، سینئر وکلا کی ٹیم نے کہا کچھ وقت دیں تاکہ کیس پڑھ سکیں، عدالت نے کہا ابھی دلائل دیں ورنہ فیصلہ سنادیں گے، مشرف نے بیان لینے کا کہا تو عدالت نے کہا پاکستان آئیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شواہد پیش کرنے کی اجازت مانگی گئی تو اس سے روک دیا گیا، تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد حکومت اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں