جمعہ, جون 12, 2026
اشتہار

عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق جسٹس بابر ستار کا خط، اٹارنی جنرل نے وضاحت کردی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق خط پر وضاحت جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا خط سے تاثر یہ جارہاہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ میں مداخلت ہورہی ہے،ایک جج صاحب نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا ہے۔

منصور اعوان کا کہنا تھا کہ اس کے خط کےمندرجات آئےہیں جو میڈیا پر رپورٹ ہورہے ہیں، کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام گیا جونہیں جاناچاہئے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ خط کے مندرجات میں جج صاحب نےفرمایاوہ پیغام انصاف کےحصول میں مداخلت نہیں تھی، ریاست کے کچھ حساس معاملات ہوتے ہیں ، میں بحیثیت اٹارنی جنرل ضروری سمجھااس کی وضاحت کردی جائے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کل تاثربنایاجارہاہےکہ جوڈیشری اورایگزیکٹومیں تعلقات خراب ہیں، ریاست کےمختلف اداروں کی آپس میں کمیونی کیشن ضروری ہوتی ہے۔

منصور اعوان نے مزید کہا کہ یہ درخواست تھی کہ ملکی دفاع کےحوالےسےسویلینزکی بریفنگ ان کیمرہ کردی جائے اور یہ ضروری تھاکہ ایسی معلومات پبلک میں نہ جائے لیکن تاثرایساگیاکہ کیس کا فیصلہ ایک رخ پر کردیا جائے ایسابالکل نہیں تھا۔

انھوں نے واضح کیا کہ ریاسستی ادارہ عدلیہ کے کام نہ مداخلت کرسکتا ہے نہ کرتاہے، عدلیہ میں مداخلت کے اس تاثر کی پرزور نفی کرتا ہوں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میری معلومات کے مطابق کسی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نےبراہ راست رابطہ نہیں کیا اور نہ وہ کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل آفس کےدرمیان پل کاکردارہوتاہے، حکومت یاریاستی ادارہ کسی بھی طرح سے عدلیہ کےمعاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، خط دیکھ لیں کس چیزپرکہاانصاف کی فراہمی پر رکاوٹ تھی، وہ رابطہ اٹارنی جنرل آفس کے ذریعےہواکہ حساس معلومات ان کیمرہ کی جائے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں