جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

پرکشش ملازمت کی آفرز جعلی ہیں، کیسے پہچانیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (8 فروری 2026): سوشل میڈیا کے اس دور میں جعلی ملازمتوں کی پرکشش آفر سے سینکڑوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں تاہم اس کی پہچان کیسے ہو؟

ملک میں غربت کے ساتھ بڑھتی بے روزگاری کے باعث اب ہر بے روزگار شخص کسی بھی ملازمت کے اشتہار کو دیکھ کر اس جانب راغب ہوتا ہے۔ تاہم جہاں سوشل میڈیا پر دیگر بہانوں سے سادہ لوح لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، وہیں جعلی ملازمتوں کی پرکشش انداز میں آفرز کر کے بھی انہیں بے وقوف بنایا اور جمع پونچی سے محروم کیا جاتا ہے۔

تاہم اصل اور نقل کی پہچان کیسے ہو؟ اس کے لیے حکومت پاکستان بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے کچھ علامات بتائی ہیں، جن کے ذریعہ ملازمت کی پیشکش کے اصلی اور جعلی ہونے میں فرق کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ کو ملازمت کی پرکشش پیشکش ہو، لیکن اس کے ساتھ ہی کسی بھی قسم کی ادائیگی، ویزا فیس یا بھرتی چارجز مانگے جائیں تو سمجھ لیں کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور اصل کمپنیاں بیرون ملک منتقلی اور ویزا سے متعلق بنیادی اخراجات خود برداشت کرتی ہیں اور امیدوار سے پیشگی رقم طلب نہیں کرتیں۔

دوسری جانب دھوکا باز بھرتی کرنے والے عموماً دل لبھانے والی آفرز کے ذریعہ پہلے کسی بھی بے روزگار یا بہتر آمدنی کے حصول کے خواہشمند برسر روزگار شخص کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر بھرتی فیس یا پروسیسنگ چارجز کے نام پر رقم وصول کرتے ہیں۔

یہ رقم وصول کرتے ہی وہ جعلی کمپنیاں یا افراد اپنا فون بند کر دیتے اور تمام رابطے ختم کر دیتے ہیں، جس کے بعد ان کو تلاش کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستند بھرتی صرف لائسنس یافتہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں یا سرکاری چینلز کے ذریعہ ہوتی ہے۔ شہری جذباتی وعدوں کے بجائے دستاویزی ثبوت مانگیں اور مشکوک مطالبات کی طوری رپورٹ کریں تاکہ آپ کے ساتھ ساتھ ہزاروں دیگر پاکستانی بھی اس فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں