The news is by your side.

Advertisement

سابق دور حکومت میں پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے اہم شواہد منظر عام پر

کراچی : پی آئی اے کی سابق انتظامیہ نے مال مفت دل بے رحم کی مثال قائم کردی، گورنمنٹ آڈٹ رپورٹ نے سابق حکومت میں کس طرح پی آئی اے کو نقصان پہنچایا گیا بھا نڈا پھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق دور حکومت میں پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آگئے ، گورنمنٹ آڈٹ رپورٹ نے بھا نڈا پھوڑ دیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ماضی کی انتظامیہ نے کس طرح ادارے کو نقصان پہنچایا۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایک سال میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی 46پروازیں بغیر کسی مسافر کے آپریٹ کی گئیں اور 2016 -17 کے دوران ان پروازوں میں ایک بھی مسافر سوار نہ تھا۔

دستاویز کے مطابق بغیر مسافر 46پروازیں آپریٹ کرنے سے قومی ایئرلائین کو 18کروڑ روپوں سے زائد کا نقصان ہوا، ان پروازوں کے علاوہ 36حج اور عمرہ کی پروازیں بھی بغیر کسی مسافر کے روانہ ہوئیں۔

اکتوبر 2018 میں انتظامیہ کو معاملے سے آگاء کیا ، سرکاری دستاویزات میں اس معاملے کا ذمہ دار ماضی کی پی آئی اے انتظامیہ کی لاپرواہی کو قرار دیا گیا ہے۔

گذشتہ روزپی آئی اے انتظامیہ نے پے گروپ 6 اور 7 کے فضائی میزبانوں کو جاری ترقی کے آرڈرز تین روز بعد ہی روکنے کا حکم دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں : سابقہ دور حکومت میں ناقص پلاننگ سے پی آئی اے کے کروڑوں کے جہاز ناکارہ

ذرائع کا کہنا تھا کہ پے گروپ 6 تا7 اور 7 سے 8 کے فضائی میزبانوں کی ترقی کئی برس بعد عمل میں لائی گئی، لیٹرزروکنے کی ای میل کا مبینہ مقصد پسندیدہ کا اندراج اورناپسندیدہ کے نام نکالنا ہے۔

یاد رہے اپریل میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سابقہ دورِ حکومت میں ناقص پلاننگ کی وجہ سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے کروڑوں روپے کے جہاز نا کارہ ہو گئے ، نا کارہ طیاروں میں پی آئی اے کے ایئر بس 310 کے 4 طیارے ، جمبو 747 ایک، اے ٹی آر کے 2 اور ایک 777 طیارہ بھی شامل تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں