سڈنی (13 اپریل 2026): آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے کے لیے آسٹریلیا سے کوئی درخواست نہیں کی گئی۔
پیر کے روز انھوں نے چینل نائن کو اپنے بیان میں کہا امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کریں، اور کہا ’’ہمیں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، اور ٹرمپ نے یہ اعلان راتوں رات یک طرفہ طور پر کیا ہے، ہم سے اس میں شامل ہونے کے لیے نہیں کہا گیا۔‘‘
انتھونی البانیز نے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انھوں نے موجودہ بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو آسٹریلوی دفاعی افواج کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ’’یہ امریکا کا اپنا فیصلہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات جاری رہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا ’’ہم مشرقِ وسطیٰ میں انسانی جانوں اور انفرااسٹرکچر کے نقصان کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ تجارت دوبارہ بحال ہو۔ اس کے عالمی معیشت پر بہت بڑے اثرات پڑ رہے ہیں، صرف آسٹریلیا نہیں بلکہ ہر ملک متاثر ہو رہا ہے۔‘‘
پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 7 بجے امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرے گی
ٹرمپ نے اتوار کے روز ناکہ بندی کا اعلان اس وقت کیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں ثالثی کی تھی۔
ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں آمد و رفت متاثر ہوئی ہے، جو عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا ہے۔ دریں اثنا البانیز نے اعلان کیا کہ وہ 14 سے 17 اپریل کے درمیان برونائی اور ملائیشیا کا دورہ کریں گے تاکہ توانائی اور خوراک کے تحفظ پر بات چیت کی جا سکے۔ وہ برونائی کے سلطان حسن البلقیا اور ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، لیکن ایندھن اور زرعی کھاد کے لیے بڑی حد تک ایشیا پر انحصار کرتا ہے، جو کسانوں کو خوراک کی پیداوار کے لیے درکار ہوتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


