اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

تیراکی میں فیل ہونے والے بیٹے نے جان پر کھیل کر ماں اور بہن بھائیوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا

اشتہار

حیرت انگیز

پرتھ (07 فروری 2026): آسٹریلیا میں ماں اور بہن بھائیوں کو بچانے کے لیے کم عمر لڑکے نے چار گھنٹے سمندر میں تیر کر دنیا کو حیران کر دیا، ذرائع ابلاغ میں 13 سالہ آسٹن ایپل بی کو ’سپر ہیومن‘‘ اور ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹن ایپل بی نے مغربی آسٹریلیا کے جیوگراف بے میں اس وقت 4 کلومیٹر (2.5 میل) کا فاصلہ تیر کر ساحل تک طے کیا، جب وہ اپنی 47 سالہ والدہ جوآن ایپل بی، 12 سالہ بھائی بیو اور 8 سالہ بہن گریس کے ساتھ مشکل میں پھنس گئے تھے۔ یہ خاندان اس وقت پھولنے والے پیڈل بورڈز اور ایک کایاک استعمال کر رہا تھا کہ اچانک موسمی حالات خراب ہو گئے۔

ایسے میں آسٹن نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چار گھنٹے تک تیراکی کر کے مدد حاصل کی، جس پر اس کی غیر معمولی بہادری کو سراہا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق لڑکے نے ابتدا میں اپنی کایاک کے ذریعے واپس ساحل تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن اس میں پانی بھرنے لگا۔

اس کے بعد بہادر لڑکے آسٹن ایپل بی نے اپنی کشتی کو چھوڑ دیا، اور لائف جیکٹ بھی اتار دی اور باقی ماندہ فاصلہ تیر کر طے کیا۔ بالآخر وہ ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد واٹر پولیس، رضاکار میرین ریسکیو ٹیموں نے ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر پر مشتمل بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائی شروع کی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کم عمر لڑکے کے تیراکی کے انسٹرکٹرز نے حال ہی میں اسے اس بنیاد پر فیل کر دیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر 350 میٹر سے زیادہ تیرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔

آسٹن نے بتایا کہ کھلے اور طوفانی سمندر میں تقریباً 4 گھنٹے تک تیراکی کرتے ہوئے اس نے خود کو مثبت خیالات پر مرکوز رکھنے کی کوشش کی، اور شام 6 بجے تک آخرکار ساحل پر پہنچ کر خطرے کی اطلاع دی۔ آسٹن نے کہا ’’لہریں بہت بڑی تھیں اور میرے پاس لائف جیکٹ نہیں تھی۔ میں بس یہی سوچتا رہا: بس تیرتے رہو، بس تیرتے رہو۔ پھر آخرکار میں ساحل تک پہنچ گیا، میں نے ساحل کی زمین کو چھوا اور وہیں گر کر بے ہوش سا ہو گیا۔‘‘

آئی ایم سوری! برطانوی وزیر اعظم نے ایپسٹین متاثرین سے معافی مانگ لی

آسٹن کی والدہ جوآن ایپل بی نے کہا کہ اپنے سب سے بڑے بیٹے کو مدد کے لیے بھیجنا ان کی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے کہا ’’میں باقی تین بچوں کو چھوڑ نہیں سکتی تھی، میں نے آسٹن سے کہا ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرو اور مدد لے آؤ، یہ صورت حال بہت جلد بہت سنگین ہو سکتی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا ’’یہ میری زندگی کے سب سے مشکل فیصلوں میں سے ایک تھا کہ میں نے آسٹن سے کہا ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرو اور مدد لے آؤ۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے دن کی روشنی مدھم ہوتی گئی اور سمندر مزید بے چین ہوتا گیا، ان کا یہ یقین متزلزل ہونے لگا کہ مدد وقت پر پہنچ پائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لہروں کے بلند ہونے اور درجہ حرارت میں کمی کے دوران وہ چھوٹے بچوں کو پُرسکون رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔

میرین ریسکیو گروپ نے آسٹن کی کوشش کو ’’انسانی صلاحیت سے بڑھ کر‘‘ قرار دیا اور ان کی برداشت اور حاضر دماغی کی تعریف کی۔ پولیس کے مطابق مذکورہ خاندان کا تعلق پرتھ سے ہے، اور یہ خاندان چھٹیاں منا رہا تھا، دوپہر کے وقت ہوٹل سے کرائے پر لیے گئے کایاک اور پیڈل بورڈز استعمال کر رہا تھا کہ تیز ہواؤں اور خراب سمندری حالات نے انھیں کھلے سمندر کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔

آسٹن ایپل بی کی 4 کلو میٹر کی تیراکی پر امدادی کارکنوں نے اسے ’سپر ہیومن‘ قرار دیا، تاہم میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹن نے معصومانہ لہجے میں کہا ’’مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں ہیرو ہوں، میں نے صرف وہی کیا جو میں نے کیا۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں