میڈرڈ (10 مارچ 2026): آسٹریلیا نے خلیجی ممالک کے دفاع کے لیے مدد کا اعلان کر دیا البتہ اپنی فوج ایرانی سرزمین پر تعینات کرنے سے انکار کر دیا۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو ایک خصوصی نگرانی کرنے والا طیارہ اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ بھیجیں گے، اور کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایران کے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر خطے میں موجود آسٹریلوی شہریوں کے تحفظ میں مدد دینا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے بڑھتے ہوئے تناظر میں وزیر اعظم نے منگل کی صبح اس امداد کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انھوں نے گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان اور رات گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت کے بعد کیا۔
دی گارڈین کے مطابق البانیز نے زور دے کر کہا کہ آسٹریلیا ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر فوجی دستے تعینات کرے گا۔ ان کے مطابق یہ امداد ایرانی حکومت کی جانب سے ہونے والے ’’بلا اشتعال حملوں‘‘ کے خلاف دفاع میں مدد دینے کے لیے ہے۔
تاہم گرینز پارٹی نے اس تعیناتی پر سخت تنقید کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح آسٹریلیا ’’امریکا کی ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں مکمل طور پر گھسیٹا جا سکتا ہے۔‘‘
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
اس امدادی پیکج کے تحت تقریباً 85 دفاعی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، عملے کے ارکان کے وسطِ ہفتہ تک آسٹریلیا سے روانہ ہونے اور ہفتے کے اختتام تک موقع پر آپریشنل ہونے کی توقع ہے۔ البانیز نے بتایا کہ ایک E-7 ویج ٹیل طیارہ ابتدائی طور پر چار ہفتوں کی تعیناتی کے لیے خلیج کے اوپر فضائی حدود کو محفوظ بنانے میں مدد دینے کے لیے طویل فاصلے کی نگرانی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔
یہ طیارہ طویل فاصلے کے نگرانی ریڈار، ثانوی ریڈار اور صوتی و ڈیٹا مواصلاتی نظام استعمال کرتا ہے تاکہ فضا میں ابتدائی انتباہ اور کنٹرول فراہم کرنے والا پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔
فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید درمیانی فاصلے کے میزائلوں کے ذخائر بھی متحدہ عرب امارات بھیجے جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے البانیز کے ساتھ ایک فون کال میں امارات کے صدر نے ان سے اس مدد کی درخواست کی تھی۔ البانیز نے کہا ’’میری حکومت واضح کر چکی ہے کہ ہم ایران کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کر رہے، اور ہم نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہم ایران میں آسٹریلوی فوجی دستے زمینی سطح پر تعینات نہیں کر رہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’ہم آسٹریلوی شہریوں کو محفوظ رکھنے اور مسافروں کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 1 لاکھ 15,000 آسٹریلوی شہری اور مستقل رہائشی موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 24 ہزار متحدہ عرب امارات میں رہتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


