The news is by your side.

Advertisement

آسٹریا میں سیاسی مقاصد میں استعمال ہونے والی سات مساجد کو بند کرنے کا فیصلہ

ویانا : آسٹریا کی حکومت نے  مبینہ طور پر غیر ملکی امداد سے چلنے والی سات مساجد کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان مساجد کے اماموں کو بھی ملک بدر کردیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریا نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی ایسی سات مساجد جو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہورہی ہیں یا غیر ملکی فنڈنگ سے چلائی جارہی ہیں انہیں بند کر کے ان کے اماموں کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔

اس حوالے سے آسٹریا کے چانسلر سبیس چین کُرز کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے، انہوں نے بتایا کہ انہیں شک ہے کہ کچھ مساجد کا تعلق ترکی کے قوم پرستوں سے ہے۔

آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود 260 اماموں میں سے 60 کے بارے میں تفتیش ہو رہی ہے، جن میں سے 40 ایسے ہیں جن کا تعلق اے آئی ٹی بی سے ہے اور یہ مسلمان تنظیم ترک حکومت کے بہت قریب ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ترکی کے صدارتی ترجمان نے آسٹریا کے اس اقدام کو اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصب قرار دیا گیا ہے۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کلین نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آسٹریا کے چانسلر کے اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنا کر محض اپنی سیاست چمکانا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریا کی حکومت عرب مذہبی کمیونٹی کے نام سے قائم ایک تنظیم کو تحلیل کر رہی ہے، یہ تنظیم بند ہونے والی چھ مساجد کو چلا رہی ہے۔ ان میں تین مساجد ویانا، دو اپر آسٹریا جبکہ ایک کارتینیا میں واقع ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں