The news is by your side.

Advertisement

آسٹرین صدر نے نقاب پہننے اور قرآن تقسیم کرنے پر پابندی کی منظوری دے دی

ویانا: یورپی ملک آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیر بیلن نے خواتین کے نقاب کرنے اور عوام میں قرآن کے نسخے تقسیم کرنے پر عائد پابندی کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کےمطابق نقاب پر پابندی کا یہ قانون آسٹریا کی پارلیمان نے مئی میں منظور کیا تھا جس پر صدر الیگزینڈر وین ڈیر بیلن نے دستخط کردیے ہیں جس کے نتیجے میں یہ باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔

چہرے کا نقاب کرنے والی خواتین کے خلاف 150 یورو کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ انتہا پسندی کے لٹریچر پر پابندی لگانے کے نام پر قرآن کے نسخے تقسیم کرنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

نقاب پر پابندی کےعلاوہ مہاجرین کے انضمام کے لیے بارہ ماہ کا ایک کورس بھی متعارف کروایا گیا ہے جس پر تارکین وطن کو دستخط کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

خیال رہےکہ جو مہاجرین آسٹریا میں رہائش پذیر ہونے کے خواہش مند ہیں، انہیں اسکولوں میں جاتے ہوئے یہ کورس کرنا ہوگا۔ان اسکولوں میں نہ صرف مقامی زبان سکھائی جائے گی بلکہ انہیں مقامی رواج اور اقدار کی تعلیم بھی دی جائے گی۔


جرمنی میں خواتین کےنقاب پہننے پرپابندی


یاد رہےکہ دو ماہ قبل جرمنی میں سرکاری ملازم خواتین پردوران ملازمت نقاب پہننے پرپابندی کا قانون منظور کرلیاگیا تھا۔


سوئٹزرلینڈ میں عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی


واضح رہےکہ فرانس،آسٹریا،بیلجیئم،ڈنمارک،روس،اسپین،سوئٹزرلینڈ اور ترکی میں پہلے ہی چند خصوصی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں