The news is by your side.

Advertisement

اردو ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر سلیم اختر انتقال کر گئے

لاہور: اردو ادب کی ممتاز شخصیت، استاد، افسانہ نگار، نقاد اور 100 سے زائد کتب کے مصنف ڈاکٹر سلیم اختر لاہور میں انتقال کر گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور نقاد، افسانہ نگار، ماہرِ لسانیات، ماہرِ اقبالیات، ادبی مؤرخ، معلم اور محقق ڈاکٹر سلیم اختر 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

سلیم اختر اپنی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم اختر کی نمازِ جنازہ بہ روز پیر 10 بجے صبح نرسری گراؤنڈ، جہاں زیب بلاک اقبال ٹاؤن میں ادا کی جائے گی-

سلیم اختر اپنی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں، انھیں علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2008 میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکاردگی سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر سلیم اختر 11 مارچ 1934 کو لاہور میں پیدا ہوئے، جامعہ پنجاب سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد شعبۂ تعلیم ہی سے بہ طور اردو لیکچرار وابستہ ہوگئے اور مختلف ادبی رسالوں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر کی کتاب ’اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘ اردو ادب میں اب تک لکھی گئی تاریخ میں اہم ترین حوالے کے طور پر یاد کی جاتی ہے، انھوں نے ’اردو زبان کی مختصر ترین تاریخ‘ بھی مرتب کی۔


یہ بھی پڑھیں:  شہرۂ آفاق ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی کو ہم سے بچھڑے بارہ برس بیت گئے


سلیم اختر نے فکرِ اقبال کے نفسیاتی پہلوؤں کو بھی آشکار کیا، اور شرح ارمغان حجاز لکھی، اقبالیات پر انھوں نے 9 اہم ترین کتابیں تصنیف کیں۔

ڈاکٹر سلیم اختر اپنے افسانوں کے سبب بھی الگ پہچان رکھتے ہیں، ان کے افسانوی مجموعوں میں آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کڑوے بادام، کاٹھ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ضبط کی دیوار شامل ہیں، افسانوں کی کلیات بھی نرگس اور کیکٹس کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

ان کی دیگر کتب میں اک جہاں سب سے الگ (سفرنامہ)، نشان جگر سوختہ (آپ بیتی)، انشائیہ کی بنیاد، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، شادی جنس اور جذبات وغیرہ شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں