The news is by your side.

Advertisement

ایون فیلڈ ریفرنس: ڈی جی نیب ظاہر شاہ دستاویزات کے ساتھ پیش

اسلام آباد: احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں ڈی جی نیب ظاہر شاہ دستاویزات کے ساتھ پیش ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پیش ہوئے جو آج صبح ہی لندن سے وطن واپس پہنچے ہیں۔ دن کے آغاز پر عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

 ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں ڈی جی نیب ظاہر شاہ بطور گواہ پیش ہوئے۔

انہوں نے مختلف دستاویزات عدالت میں پیش کیں جن میں لندن فلیٹس سے متعلق آفیشل رجسٹرڈ کاپیاں، فلیٹ نمبر 16، 16 اے، 17 اور 17 اے کی دستاویزات، لندن فلیٹس کے پانی کے بل اور کونسل ٹیکس ریکارڈ عدالت میں پیش کیے۔

ظاہر شاہ نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ ہیں۔ جے آئی ٹی کے ایم ایل ایز سے متعلق خط و کتابت پیش کروں گا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ظاہر شاہ پر جرح کی۔

ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ 31 اکتوبر 2017 کو وہی دستاویزات مانگی جو 27 مئی کو مانگی تھیں۔ عثمان احمد نے 27 مارچ 2017 کو دستاویزات حوالے کیں۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیشی افسر نے میرے بلانے کے اگلے روز دستاویزات وصول کیں۔ تفتیشی افسر نے دستاویزات لے جانے کے بعد شامل تفتیش نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یو کے اتھارٹی کو 27 مئی اور 31 اکتوبر کو خطوط لکھے گئے۔ یہ خطوط جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 10 میں موجود ہیں۔

خواجہ حارث نے دریافت کیا کہ والیم 10 سے متعلق آپ پر کوئی قدغن لگائی تھی۔ ظاہر شاہ نے جواب دیا کہ والیم 10 کے کچھ حصوں کی کاپیاں تفتیشی افسران کو بھجوائیں۔ لندن فلیٹس کے اصل اور بینفیشل اونرز کی معلومات مانگی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے میں اونرز کا نام، پتہ اور رابطہ نمبر پوچھے گئے تھے۔ ایم ایل اے تفتیشی افسر کی درخواست پر لکھا گیا تھا۔ ایم ایل اے میں لندن پراپرٹیز اور کمپنیوں کی دستاویزات کا کہا گیا تھا۔

اس دوران نیب پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ وکیل صفائی دستاویزات کے متن سے متعلق سوالات نہیں کر سکتے۔ گواہ کہہ چکا ہے کہ دستاویزات جیسے موصول ہوئیں ویسے تفتیشی افسر کو دیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ نے ایم ایل اے بھیجا اور دستاویزات موصول بھی کیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی نے عدالتی کارروائی ریکارڈ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت میں نواز شریف اور مریم نواز کی 7 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

مریم نواز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ لندن میں کلثوم نواز کی ریڈیو تھراپی کی جارہی ہے اور اس موقع پر نواز شریف اور مریم نواز کا وہاں ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حلف لیتا ہوں اگر عدالت استثنیٰ دے تو اس کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔ جب بھی عدالت طلب کرے گی ملزمان حاضر ہوں گے۔

تاہم عدالت نے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی آج عدالت میں پیش ہوئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں