The news is by your side.

Advertisement

ایون فیلڈ ریفرنس: تفتیشی افسرپرمریم نواز کے وکیل کی جرح

اسلام آباد : احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز گواہ عمران ڈوگر پرجرح کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کررہے ہیں ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے بعد روانہ ہوگئے جبکہ تفتیشی افسرعمران ڈوگر پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کی جرح جاری ہے۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر نیب کے گواہ عمران ڈوگرنے کہا کہ عام طورپرایک نوٹس بھیجا جاتا ہے، پھر دوسرا اور تیسرا بھیجا جاتا ہے۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ تفتیشی رپورٹ رائے کے بعد ریجنل بورڈمیٹنگ میں پیش کی جاتی ہے، ریفرنس کے لیے ریجنل بورڈ اپنی سفارشات ایگزیکٹوبورڈ کوبھیجتا ہے۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ ایگزیکٹوبورڈ ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دیتا ہے، مجازاتھارٹی فیصلہ کرتی ہے کتنے ریفرنس دائر کرنے ہیں۔

نیب کے گواہ نے عدالت کو بتایا کہ عبوری تفتیشی رپورٹ6 ستمبر2017 کوتیارکی، ٹرائل وردی سرٹیفکیٹ 31 اگست 2017 کا ہے، اس پرازخود وضاحت دینا چاہتا ہوں، اس وقت پراسیکیوشن ونگ کوعبوری تفتیشی رپورٹ کا ڈرافٹ بھیجا گیا تھا۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ 15اگست2017 کے خط کوریفرنس کاحصہ نہیں بنایا، 15اگست کے خط سے یہ معلوم نہیں ہوتا کسے لکھا گیا، ایڈیشنل ڈائریکٹرنیب رانامحمدعلی کا161کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ الزام کی حد تک ساری تفتیش ریکارڈ کاحصہ بنا دی، ملزمان کےعلاوہ کچھ لوگوں کے کردار کا تعین کرنا تھا، مریم نوازاورکیپٹن (ر) صفدرسے متعلق سب ریکارڈ کاحصہ بنایا، دونوں سے متعلق زبانی شہادت بھی ریکارڈ پرہے۔

گواہ نے عدالت کو بتایا کہ گواہ شکیل انجم ناگرا کا بیان قلمبند کیا تھا، گواہ محمد رشید نے سربمہرلفافے میں ریکارڈ دیا، گلڈکوپرکوشامل تفتیش کیا نہ ہی کوشش کیسٹیفن سمتھ کوشامل تفتیش نہیں کیاگیا۔

عمران ڈوگر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اسٹیفن موورلے اسمتھ کی سی وی منسلک ہے، سی وی پراسٹیفن اسمتھ کا لندن کا پتہ موجود ہے، اسٹیفن اسمتھ کی رائے بھی جےآئی ٹی میں شامل تھی لیکن اسے شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے عدالت کوبتایا کہ راجہ اخترکا نیلسن ، نیسکول اورکومبرسے متعلق بیان ریکارڈ کیا، بیان کے مطابق تصدیق شدہ ٹرسٹ ڈیڈ 6 جولائی کو لندن میں ملے۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ بیان کے مطابق سربمہرلفافے راجہ اخترنے وصول نہیں کیے، راجہ اخترنے نہیں بتایا ریڈلے کی رپورٹس لندن سے پاکستان کون لایا، تفتیش نہیں کی ٹرسٹ ڈیڈ کی نوٹرائزڈ کاپی لندن میں کس کے پاس رہی۔


جےآئی ٹی کےاکٹھےکیےگئےمواد پرعبوری ریفرنس فائل کیا‘ عمران ڈوگر

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر گواہ عمران ڈوگر نے بتایا تھا کہ پہلے شکایت آتی ہے پھر نیب آرڈیننس 1999 کے تحت جانچ پڑتال ہوتی ہے، شکایت سیل جانچ پڑتال کرتا ہے۔

عمران ڈوگر کا کہنا تھا کہ شکایت کی تصدیق ہو نے کے بعد انکوائری شروع ہوتی ہے، انکوائری بعد میں تفتیش میں تبدیل ہو جاتی ہے، کافی مواد ملنے کے بعد تفتیش کی جاتی ہے۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت کوبتایا تھا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں ریفرنس فائل ہوتا ہے، ریفرنس فائل کرنے کا حکم سپریم کورٹ کا تھا۔

عمران ڈوگر نے کہا تھا کہ تفتیش کرنے کی اتھارٹی دی گئی تھی، سپریم کورٹ نے شواہد کی روشنی میں ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا تھا کہ مواد جےآئی ٹی نے نیب اورایف آئی اے سے اکٹھا کیا، جے آئی ٹی کے اکٹھے کیے گئے مواد پر عبوری ریفرنس فائل کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک’پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں