ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس، شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان جمعہ کو طلب
The news is by your side.

Advertisement

ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس، شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان جمعہ کو طلب

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خودنوٹس کیس میں شعیب شیخ سمیت ایگزیکٹ کے تمام ملزمان کوجمعہ کوطلب کرلیا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کیا ایگزیکٹ کے خلاف مقدمات ختم ہو گئے ؟ ان میں ضمانتیں کیسے ہوگئیں؟ ملزمان کے نام بتائیں،ای سی ایل میں ڈال دینگے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی، عدالت نے شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کو جمعہ کوطلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا حقائق بتائیں ؟برطانیہ میں خبر چھپنے سے ملک کی بدنامی ہوئی، ہمیں ملک کو بدنامی سے بچانے کے لئے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں، تمام ملزمان کے نام بتائیں،ای سی ایل میں ڈال دینگے۔

جس پرایف آئی اے نے کہا تمام ملزمان کے نام ایک گھنٹے میں دے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا ایک ماہ میں سب مقدمات کا فیصلہ کریں گے، پاکستان کی عزت بچانے کیلئے کردارادا کرنا ہے، ملک کا وقاربڑی چیز ہے۔


مزید پڑھیں : ایگزیکٹ اسکینڈل کی وجہ سے سر شرم سےجھک گئے،چیف جسٹس


تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا ایف آئی اے نے تین جلدوں پر رپورٹ جمع کرائی ہے، ایگزیکٹ کا ستر فیصد ریونیو آن لائن تعلیم کے یونٹ سے آتا ہے، امریکا میں تین سوتیس جامعات کی ویب سائٹ بنائی گئی،ویب سائٹ پر نمبر امریکا کا اور کال پاکستان میں موصول ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا ایگزیکٹ کے خلاف جومقدمات بنائے ، ان کا کیا ہوا جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا چار مقدمات بنائے گئے تھے، جن میں سے دو میں ملزمان ضمانت پرہیں۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کانوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے 10روزمیں رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا تھا کہ ایگزیکٹ اسکینڈل کی وجہ سے سر شرم سے جھک گئے اور پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی۔


مزید پڑھیں :  جعلی ڈگریوں کے دھندے سے ایگزیکٹ نے کروڑوں ڈالرز کمائے، نیویارک ٹائمز


یادرہے کہ سال 2015 میں نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کا ملٹی ملین ڈالر اسکینڈل پھوڑا، جس سے پاکستان میں تہلکہ مچ گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کی ایک سافٹ ویئر کمپنی ”ایکزیکٹ“ نے جعلی ڈگریوں سے کروڑوں ڈالرز کمائے ہیں ۔

رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد حکومت کو مجبوراً ایگزیکٹ کے دفاتر پر چھاپہ مارنا پڑا تھا جبکہ ایگزیکٹ سے جعلی ڈگری حاصل کرنے والوں میں بعض اہم بین الاقوامی شخصیات بھی شامل ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں