The news is by your side.

Advertisement

اپ ڈیٹ: ایازصادق کی وکٹ گر گئی، این اے 122 میں دوبارہ پولنگ کا حکم

لاہور : الیکشن ٹریبونل نے این اے 122 کے انتخابات کو کالعدم قرار دے کرحلقے میں ری الیکشن کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں  سردار ایازصادق ممبر اوراسپیکر قومی اسمبلی نہیں رہے ۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کو بہت بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ عمران خان نے این اے 122 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق کے خلاف دھاندلی کی درخواست کمیشن میں جمع کرائی تھی جس  پر 2 سال بعد الیکشن کمیشن نے سردار ایاز صادق کی اسمبلی رکنیت ختم کرکے این اے 122 میں دوبارہ انتخابات کے انعقاد کا حکم جاری کردیا ہے۔

الیکشن ٹریبونل نے 9 گھنٹے تاخیر کے بعد شام 7 بجے اپنا فیصلہ سنایا، ٹربیونل نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 147کے نتائج بھی منسوخ کردیئے۔

 لاہورمیں  میاں محسن لطیف کے حلقے پی پی 147 میں بھی دوبارہ انتکابات کا حکم دیا گیا ہے جبکہ اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کااعلان کردیا ہے۔

  قومی اسمبلی کے اسپیکر سردارایاز صادق  کا کہنا تھا کہ فیصلے میں دھاندلی کا کہیں ذکر نہیں ہے اور بے ضابطگی کا میں کسی طرح بھی ذمہ دار نہیں ہوں۔

 الیکشن ٹربیونل کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کے بیٹے علی ایاز صادق نے کہاکہ 80 صفحات کے فیصلے میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ دھاندلی ثابت ہوئی، ابھی بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ دھاندلی نہیں کی۔

الیکشن ٹربیونل نے نادرا کی جانب سے پیش کی گئی سپلیمنٹری رپورٹ بھی مسترد کر دی۔ فیصلہ آنے کے بعد الیکشن ٹربیونل کے باہر موجود تحریک انصاف کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

کارکنوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں۔ واضح رہے گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کو ملک بھر میں ہونیوالے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بائیس سے مسلم لیگ سردار ایاز صادق 93 ہزار 389 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔

عمران خان 84517 ووٹ حاصل کر سکے یعنی عمران خان کو 8 ہزار 872 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں