site
stats
پاکستان

سردار ایاز صادق 268 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب میں نواز لیگ کے سردار ایاز صادق 268 ووٹ لے کر اسپیکر منتخب ہو گئے، ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت محمود نے 31 ووٹ حاصل کئے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے بیسویں اسپیکرکاانتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق اور پی ٹی آئی کے شفقت محمود کے درمیان مقابلہ ہوا، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کامیاب ہونے والے سردار ایاز صادق سے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔

اناسی روزبعدایک بار پھر مسلم لیگ ن کے نومنتخب رکن اسمبلی سردارایازصادق ایوان زیریں کے نظم و نسق کیلئےچن لئے گئے ن لیگ کےامیدوار ایازصادق کولیگی ارکان سمیت مزید دوسواڑسٹھ نمائندوں نے ووٹ دیا۔

جبکہ مد مقابل تحریک انصاف کے امیدوارشفقت محمودایوان کے صرف اکتیس امیدواروں کا اعتماد حاصل کرسکے۔

ہم سب مل کر آئین اور جموریت کا دفاع کریں گے۔اسپیکر ایاز صادق

بعد ازاں نو منتخب اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق نےقومی اسمبلی کا نظم و نسق سنبھالنے کے بعدایوان سے خطاب میں کہا کہ میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے دوبارہ عزت بخشی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سیمت تمام جماعتوں کا حمایت کرنے پر شکر گزار ہوں، اور پی ٹی آئی اراکین کا اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق ووٹ دینے پر بھی ان کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کسی سے کوئی شکوہ نہیں سب دوست ہیں مل کر کام کریں گے ، ایک ہی اسمبلی سے 2 بار منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا دوتہائی ووٹ ملنا ایوان کے اعتماد کا مظہر ہے،

آل پارٹیز کانفرنس پارلیمنٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی، شفقت محمود

پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت محمود نےایازصادق کو منصب سبنھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اسپیکر کا منصب سیاست سے بالا تر ہوتا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس پارلیمنٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی، پارلیمنٹ آئین میں سب سے اونچا ادارہ ہے، انہوں نے اسپیکر کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کیا ہم نے اسمبلی میں بیٹھ کر گزشتہ ڈھائی سالوں میں جو کام کیا کیا وہ صحیح تھا؟

انہوں نے کہاکہ بہت سارے مسائل ہم نے ہاؤس میں ڈسکس ہی نہیں کئے، نیشنل ایکشن پلان پارلیمنٹ میں بننا چاہیئے تھا،کیا ایل این جی کے معاملے پر اسمبلی میں بات کی گئی؟

پوائنٹ آف آرڈر کو بہت پیچھے دھکیل دیا گیا، کئی اہم اشوز پر بات ہی نہیں کی گئی، فوجی عدالتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آنا چاہیئے تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایم این اے صرف اپنے حلقے کا سیاستدان ہوتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس پارلیمنٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی امید کرتی ہے کہ آپ سب کیلئے متوازن کردار ادا کریں گے کیونکہ پارلیمینٹ کو فعال بنانا بہت بڑا چیلنج ہے۔

ایاز صادق کی کامیابی پارلیمانی جمہوریت کی فتح ہے، سید خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے بھی اسیکر ایاز صادق کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایازصادق کا دوبارہ اسپیکر منتخب ہونا پارلیمانی جمہوریت کی فتح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کی بقاء اور سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے،پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت محمود کی بھی کامیابی ہے کہ انہوں نے انتخاب میں حصہ لیا اور باعزت طریقے سے اپنی شکست کو تسلیم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ریفارمز کی بھی بہت بڑی اہمیت ہے اس پر جلد ازجلد کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آگے حکومت پر سخت تنقید ہوگی، اسپیکر کیلئے کٹھن وقت ہوگا، کیونکہ حکومت نے اب تک کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔

متحدہ اور اسپیکر ایاز صادق کی کیفیت ملتی جلتی ہے، ڈاکٹرفاروق ستار

ایم کیو ایم کے رکن ڈاکٹرفاروق ستار نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو مبارکباد دی ،انہوں نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایاز صادق اور متحدہ کی کیفیت بہت حد تک ملتی جلتی ہے۔

ان کو جب اسمبلی سے رخصت کیا گیا تو اس کے بعد ہم بھی چلے گئے تھے، اور آج جب وہ آئے ہیں تو ہم بھی اسمبلی میں موجود ہیں.

انہوں نے بتایا کہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے ایم کیو ایم کے رکن عبدالرشید گوڈیل بھی روبصحت ہیں.

انہوں نے ایاز صادق کو اپنی جماعت کی جانب سے مبارکباد دی۔ ڈاکٹرفاروق ستار کا کہناتھا کہ آج نو نومبر کے دن ہمیں سوچنا ہے کہ یہ قائداعظم اور علاامہ اقبال کا پاکستان ہے یا نہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top