The news is by your side.

Advertisement

پارٹی چھوڑ دی مگر اسمبلی کی نشست نہیں چھوڑوں گی، عائشہ گلالئی

کراچی: تحریک انصاف کی منحرف رہنماء عائشہ گلالئی نے اعتراف کیا ہے کہ ایک سال سے کوئی نازبیا میسج نہیں آیا، موبائل پر پہلا پیغام موصول ہونے کے بعد معاملہ اپنے والد کو بتایا، پی ٹی آئی چھوڑ دی مگر اسمبلی کی سیٹ نہیں چھوڑوں گی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ گلالئی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ عوامی سیاست کی ہے اور چونکہ قومی اسمبلی کی نشست عوام کی امانت ہے اس لیے یہ کسی کو واپس نہیں کروں گی اور ایوان میں عوامی مسائل پر آواز اٹھاتی رہوں گی۔

تحریک انصاف سے منحرف ہونے والی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا کہ پارٹی لیڈر کی غلطی پر میرے اختلافات ہوئے جس کی وجہ سے پارٹی چھوڑی ہے لیکن قومی اسمبلی کی سیٹ میرے حلقے کے لوگوں کی امانت ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑوں گی۔

چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے نازیبا ٹیکسٹ میسیجز کے حوالےس ے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلا میسج 2013 اکتوبر میں موصول ہوا جس کے بعد مجھے شدید دھچکا لگا تھا اور موبائل پر پیغام موصول ہونے کے بعد ساری تفصیل اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا کچھ عرصے رُک کر صورت حال دیکھو پھر آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے جب کہ آخری میسج گزشتہ برس جولائی میں ملا تاہم اُس کے بعد سے کوئی موبائل پیغام موصول نہیں ہوا۔

عمران خان کی جانب سے بھیجے گئے نازیبا پیغامات کا ثبوت دکھانے کے سوال پر عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ وہ سارے ثبوت میں کسی عدالتی فورم میں پیش کروں گی اور میری خواہش ہے کہ ایسا کوئی مقدمہ بنے اور میں ثبوت پیش کروں۔

تحریک انصاف سے ناراض عائشہ گلا لئی نے کہا کہ خیبر پختونخواہ حکومت میں اقربا پروری اور کرپشن عروج پر ہے جہاں وزیراعلیٰ پرویز خٹک صرف اپنے عزیزوں کو نواز رہے ہیں جس کی شکایت لے کر عمران خان کے پاس بھی گئی تھی لیکن وہاں سنوانی نہیں ہوئی۔

عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ عمران خان پرویز خٹک کی کرپشن پر اس لیے ایکشن نہیں لیتے کیوں کہ کے پی کے کے ٹھیکوں سے جہانگیر ترین کو فائدہ ہوتا ہے جس سے عمران خان کا کیچن چلتا ہے اور ہیلی کاپٹرز اور جہازوں میں سواری کرتے ہیں۔

این اے 1 پشاور کے ٹکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں بھی کافی عرصے سے پارٹی کا حصہ ہوں اس لیے بخوبی جانتی ہوں کہ ٹکٹ دینے کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ کرتا ہے اور ابھی تو الیکشن ہونے میں گیارہ ماہ باقی ہیں۔

آف دی ریکارڈ کے میزبان کاشف عباسی کے پے در پہ سوالوں کی بوچھاڑ پر عائشہ گلالئی یہ بات ماننے پر تیار ہوں گی کہ میں نے پشاور این اے 1 کے ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا کیوں کہ میں سمجھتی ہوں کہ اس حلقے کی سیاست کے لیے میں موزوں ترین امیدوار ہوں اور بآسانی بلور خاندان کو ہرانے پر دسترس رکھتی ہوں۔

ایک موقع پر عائشہ گلہ لئی کا کہنا تھا کہ میں بہ طور آزاد امیدوار بھی اس حلقے سے جیت سکتی ہوں اور اس کے لیے مجھے عمران خان اور ان کی جماعت جہاں خواتین کی عزت نہ کی جاتی ہو کی چندان ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں نے پشاورکی عوام کی خدمت کی ہے اور وہ مجھے ضرور منتخب کریں گے۔

عائشہ گلہ لئی نے مزید کہا کہ میری پارٹی سے علیحدگی کے بعد مجھ پر اور میری اہل خانہ پر بے ہودہ الزامات لگائے جا ریہے ہیں حتیٰ کہ میری وہ بہن جو پاکستان کا فخر ہے اور اسکواش میں پاکستان کا نام روشن کر رہی ہے اس کے کھیل کے لباس کو لے کر بے ہودہ تبصرے کیے جا رہے ہیں اس سے تحریک انصاف میں موجود لوگوں کا مائنڈ سیٹ معلوم ہوتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اور امیر مقام سے روابط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں حلفیہ کہتی ہوں کہ تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد سے اب تک میں ایک بار بھی امیر مقام سے نہیں ملی ہوں اور رہی بات کسی جماعت میں شمولیت کی تو میں اس جماعت کا حصہ بنوں گی جہاں خواتین کی عزت ہوتی ہو۔

عائشہ گلہ لئی نے کہا کہ میں نے کسی سے بھی ایک روپیہ نہیں لیا ہے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کیا اور جو لوگ مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگا رہے ہیں میں ایسے لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گی اور ہرجانے کا دعوی کروں گی۔

عائشہ گلہ لئی نے کہا کہ میں نے پیسے لیے ہوتے یا مجھے بھی ہیلی کاپٹرز اور جہاز میسر ہوتے تو میں بھی اپنی پارٹی بنا چکی ہوتی اور کبھی ایسا موقع آیا تو میں خواتین پر مشتمل سیاسی جماعت بناؤں گی جس میں صرف خواتین ہی مبرز اور خواتین ہی قیادت میں شامل ہوں گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں