The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

مسلمانوں کوایودھیامیں متبادل جگہ دی جائے ، بھارتی سپریم کورٹ

نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں5رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنادیا ، فیصلے میں سنی اور شیعہ وقف بورڈز کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے کیس کا پس منظر بیان کیا ، چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ نے کہا بابر مسجد میر باقی نے تعمیرکی تھی، عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی کے عقیدے پر بات کرے۔

فیصلے میں کہا گیا بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا، بابری مسجد کے نیچے تعمیرات موجود تھیں، اس کے نیچے موجود تعمیرات اسلامی نہیں تھیں، بھارتی سپریم کورٹ میں نرموہی اکھاڑے کی کیس سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

بھارتی چیف جسٹس  نے کہا تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیارام کی جنم بھومی ہے، بابری مسجد کا فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا، مسلمان اور ہندو دونوں بابری مسجد کی جگہ کو مذہبی مقام مانتے ہیں۔

عدالت نے کہا 1949 میں مرکزی گنبد کے نیچے بت رکھنے کوسنی وقف بورڈ نے چیلنج کیاتھا، 1856 تک بابری مسجد کی جگہ باقاعدگی سے ادائیگی نماز کے ثبوت نہیں ملے، مسلمانوں کےاندرونی حصوں میں نماز پڑھنے اور ہندوؤں کے حصوں میں عبادت کے ثبوت ملے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ باقاعدگی سےنمازکی ادائیگی کےباوجودبابری مسجد کبھی ویران نہیں رہی ، مسلمانوں نے کبھی بھی بابری مسجد پر قبضہ نہیں کھویا، بابری مسجد کو گرانا قانون کی خلاف ورزی ہے، 1949 میں بابری مسجد کو گرانا اور بت رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے، مسلمانوں کوایودھیامیں متبادل جگہ دی جائے۔

عدالت نے کہا آخری باردسمبر1949میں بابری مسجدمیں نمازاداکی گئی ، الٰہ باد ہائی کورٹ کا متنازع زمین کو 3حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ غلط تھا، استغاثہ بابری مسجدکےاندرونی حصوں میں ادائیگی نمازکاثبوت نہ دے سکا، پانچ ایکڑ کی زمین سنی وقف بورڈ کو دی جائے، ہندوؤں نے بابری مسجد کے بیرونی حصے میں عبادت کے شواہد دیے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجدکی جگہ مندر بنے گا، تین ماہ میں بھارتی حکومت بورڈتشکیل دےکراسکیم تیارکرے اور مسلمانوں کوایودھیامیں 5ایکڑمتبادل جگہ دی جائے۔

خیال رہے سنی اورشیعہ وقف بورڈز کی جانب سے درخواستیں1946میں فیض آباد کی عدالت کے فیصلے کے خلاف دی گئی تھیں۔

بابری مسجد کیس کے فیصلے کے پیش نظر بھارتی سپریم کورٹ کے باہر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہیں جبکہ اودھیا سمیت بھارت کے بیشتر علاقوں میں بھی سیکیورٹی سخت ہے اور ایودھیا، آگرہ اور علی گڑھ میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں : بابری مسجد کیس کا فیصلہ، اسکول قید خانوں‌ میں‌ تبدیل

فیصلہ آنےسے قبل جےپور میں انٹرنیٹ سروس بندکردی گئی تھی ، ریاست اترپردیش میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ڈرون سے فضائی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ یوپی کا نیپال سے متصل بارڈ رسیل کردیا ہے۔

یاد   رہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے سے متعلق کیس میں فریقین کے مسئلے کے حل کے لیے کسی نقطے پر متفق نہ ہونے کے بعد 6 اگست کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ قائم کیا گیا تھا۔

واضح  رہے کہ 6 دسمبر1992 کو ایودھیا میں ہندو انتہاء پسندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔

خیال رہے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد مغل بادشاہ بابر کے دور1528میں تعمیر کی گئی لیکن انتہا پسند ہندؤوں نےدعویٰ کیا تھا کہ مسجد کی جگہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

تنازع پر پہلے مسجد بند کی گئی اور پھر باقاعدہ منصوبہ بنا کر جنونی ہندؤوں نے تاریخی یادگار پر دھاوا بول دیا گیا تھا، جس کے بعد فسادات میں مسجد کے اطراف مسلمانوں کے گھر بھی جلا دئیے گئےاور  ان فسادات میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں جان سے گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں