نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی کے فلیگ شپ پروجیکٹ اور بھارت میں مسلم کشی کا نشان بن جانے والی بابری مسجد پر بنایا گیا رام جنم بھومی مندر ان دنوں عالمی ذرایع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عوام میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ مندر دراصل مالی خورد برد اور رقم کی چوری کے اسکینڈل کی زد میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے لئے سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
ہم رام جنم بھومی کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے اس اسکینڈل پر بات کریں گے اور بتائیں گے کہ آخر یہ معاملہ کیوں سیاسی رنگ اختیار کررہا ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی نے رام مندر تحریک کے ذریعے ہی اپنا سیاسی قد کاٹھ بنایا تھا۔ مسلم دشمنی کی بنیاد پر ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکایا اور دنیا کی تاریخ کے بد ترین فسادات کروائے جس میں ہزاروں مسلمانوں کی جان چلی گئی۔
موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکمران جماعت بی جے پی نے رام مندر کی تعمیر کا نعرہ بلند کر کے 2014ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور کام یابی حاصل کی۔ اور تب سے بھارت میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہے۔ گزشتہ انتخابات میں نریندر مودی نے اپنی معاشی یا سماجی کارکردگی کو بنیاد بنانے کے بجائے اسی مندر کے نام عوام کے جذبات بھڑکا کر ووٹ حاصل کیے تھے۔ مگر اب بڑے پیمانے پر مندر کو ملنے والے نذرانے اور عطیات کی چوری کے بعد ٹرسٹ کے انتظام پر سوالات براہِ راست حکمران جماعت کی ساکھ کو متاثر کررہے ہیں۔
بابری مسجد صدیوں سے وہاں بسنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری اور احترام کا ایک مظہر رہی۔ اس کے صحن میں ایک طرف ہندو پوجا کرتے تھے اور مسجد کے اندر مسلمان اپنی عبادت کرتے تھے۔ پھر بھارت میں مذہبی آگ کو بھڑکایا گیا اور کٹر ہندوؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ بابری مسجد کی بنیاد ایک مندر پر رکھی گئی تھی اور اس بیانیے کو دہشت گرد تنظیم راشٹر سیوک یعنی آر ایس ایس، بھارتی جنتا پارٹی اور دیگر انتہا پسند ہندو نتظیموں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لئے استعمال کیا۔ کئی سال کی سیاسی مہم اور پروپیگنڈے کے بعد 1990ء میں بابری مسجد کو شہد کر دیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ شروع ہوا مگر سب سے زیادہ متاثر ممبئی، سورت، احمد آباد، کانپور اور دہلی تھے۔ سرکاری طور پر ان فسادات میں قتل کیے جانے والے مسلمانوں کی اصل تعداد کا علم تو نہیں، مگر محتاط اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 3 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ سب سے زیادہ خوں ریزی ممبئی میں ہوئی جہاں 900 سے زائد مسلمان قتل ہوئے۔ اور لاکھوں مسلمانوں کے کاروبار اور گھر تباہ ہوگئے۔
یہ بھارت میں نہ تو پہلے اور نہ ہی آخری مسلم کش فسادات تھے۔ اس وقت ہم جس رام مندر کی بات کررہے ہیں اس کی بنیادیں مسلمانوں کے خون پر رکھی گئیں تھیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کی تعمیر کو بی جے پی نے اپنا سیاسی نعرہ بنایا اور پھر سپریم کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ بھی لیا۔ یہ فیصلہ خود بھارت میں کڑی تنقید کا نشانہ بنا کیونکہ اس فیصلے کو تحریر کرنے والے جج نے تسلیم کیا کہ انہوں نے فیصلہ لکھنے سے قبل آئین اور قانون کو نہیں بلکہ بھگوان کی پوجا کے بعد تحریر کیا۔ اس فیصلے میں یہ تحریر ہے کہ ہندو یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ بابری مسجد کو رام مندر کے انہدام کے بعد تعمیر کیا گیا۔
بی جے پی کی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کے لئے کام شروع کیا اور وہیں سے مندر کے نام چندہ ہڑپ کرنے اور رقم کی چوری شروع ہوگئی۔ بھارت کے طول و عرض میں مندر کی تعمیر کے لئے چندہ مہم کا آغاز ہوا اور اس کے لئے جبری بھتہ تک وصول کیا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ہندوؤں کے علاوہ مسلمانوں، سکھوں اور دیگر مذاہب کے افراد سے بھی جبراً رقم لی گئی اور ان پر طرح طرح سے دباؤ ڈالا گیا۔ مگر وصول کردہ مالی عطیات اور چندے کی رقم کبھی مندر کی تعمیر کے لئے نہ پہنچ سکی۔
امیر اور باثروت ہندوؤں نے سونے چاندی کی اینٹیں، قیمتی جواہرات اور ہیرے تک مندر کی تعمیر کے لئے عطیہ کیے، جن کی کوئی رسید ان کو نہیں دی گئی اور یوں درست اندازہ نہیں کہ کتنی بھاری مالیت کی قیمتی دھاتیں اور جواہرات مندر کے نام پر دیے گئے۔ یہاں بڑے پیمانے پر عطیات ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا تو سوشل میڈیا پر بھارت سے ہی نہیں بیرونِ ملک سے بھی ہندو عطیہ دہندگان نے حکومت اور مندر انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھائی اور بتایا کہ کس طرح انہیں رسید دیے بغیر ان سے نذرانے وصول کیے گئے۔ ٹرسٹ کے مطابق عوام کی طرف سے 32 کلو گرام سے زائد سونا اور 1,518 کلو گرام چاندی اور دیگر قیمتی اشیاء موصول ہوئیں، جنہیں سرکاری ٹکسال سے پگھلا کر محفوظ کیا گیا۔ اور تقریبا 32 ارب روپے سے زائد چندہ جمع ہوا۔ واقفان حال اور بعض ہندو راہ نما دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل زر اس سے کہیں زیادہ تھا۔
بابری مسجد کے اطراف کی زمین کی خریداری میں بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کے عہدیدارن نے کروڑوں روپے کمائے، چند لاکھ میں زمین خرید کر مندر ٹرسٹ کو کروڑوں روپے میں فروخت کی گئی۔ اور بعض تو ایسے لوگوں کو بھی ادائیگی کی گئی جن کے پاس زمین بھی نہ تھی۔ صرف دعوے کی بنیاد پر زمین کی رقم ادا کر دی گئی۔ اس زبردست کرپشن پر آواز اٹھنے لگی تو بی جے پی اور آر ایس ایس نے اسے دبا دیا جب کہ بھارت کا گودی میڈیا بھی ان خبروں سے نظریں چرا گیا۔ میڈیا میں مندر کی تعمیر کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔ اور نریندر مودی نے 2024 کے انتخابات میں کام یابی کے لئے اسی مندر کو ایک نعرے طور پر استعمال کیا۔
مندر کی تعمیر کے چند سال کے اندر اندر بدعنوانی اور چندے کی چوری کا ایسا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس سے نظریں چرانا اب بی جے پی اور نریندر مودی کے لئے ممکن نہیں رہا۔ رام مندر کی تعمیر سے شروع ہونے والی لوٹ کھسوٹ اس کی تعمیر کے بعد انتہائی منظم انداز میں جاری رہی۔ مندر میں چندے کے لئے جگہ جگہ پیٹیاں لگائی گئی تھیں۔ جس میں یومیہ لاکھوں بھارتی روپے جمع ہوتے تھے۔ اس چندے کی گنتی اور بینک میں جمع کرانے کے لئے مندر کے ٹرسٹ کے اہلکار، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کا عملہ اور گنتی کے لئے نجی کمپنی کی خدمات لی گئیں۔ مگر اس کام پر مامور تمام افراد حکمران جماعت اور انتہاء پسند ہندو گروپوں کے رکن تھے۔ اور تین سطحی نظام ہونے کے باوجود اس گٹھ جوڑ سے لوٹ کھسوٹ اور چوری شروع ہوئی۔
مندر کو ملنے والی رقم کو گن کر ان کی سو نوٹوں پر مشتمل ایک گڈی اور ہر دس گڈیوں کا ایک پیکٹ بنایا جاتا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ رقم شمار کرنے والے ملی بھگت سے ان پیکٹوں میں دس کے بجائے بارہ یا زائد گڈیاں شامل کرتے جس سے چندے کی گنتی میں اضافی گڈیاں نکل جاتیں۔ مندر میں نگرانی اور حفاظت کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے۔ مگر جان بوجھ کر بہت سے ایسے مقامات جہاں سے حساب اور شمار کے بعد رقم بینک منتقل کی جاتی تھی، ان کو کیمرہ کور نہیں کرتا تھا جس کو بلائنڈ اسپاٹ کہا جاتا ہے۔ انہی مقامات پر اضافی گڈیوں کو پیکٹ سے نکال کر یہ افراد آپس میں بانٹ لیتے تھے۔
اس اسکینڈل کے سامنے آنے اور چندے کی گنتی کرنے والوں کی تبدیلی کے بعد یومیہ چندے میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بینک حکام نے بتایا کہ چوری کا انکشاف ہونے سے پہلے روزانہ کا اوسط چندہ 16 سے 18 لاکھ روپے جمع ہو رہا تھا، لیکن کارروائی کے بعد یہ اوسط بڑھ کر 24 سے 26 لاکھ روپے ہو گیا ہے۔
اسکینڈل سامنے آنے پر گرفتاری اور تفتیش کا آغاز ہوا اور ملزمان کے قبضے سے لگ بھگ 79.85 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ تفتیش کے دوران ملزمان سے غیر ملکی کرنسی، سونے چاندی کے زیورات اور قیمتی گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ اس اسکینڈل کا مرکزی کردار انولپ مشرا کو بتایا گیا ہے جو عطیات گننے والی ٹیم کا نگران تھا۔ جب کہ چمپت رائے نے استعفی دے دیا جو آر ایس ایس کے مقامی رہنما تھے۔ انہوں نے ہی مندر کے ٹرسٹ خصوصا عطیات اور نذرانوں کے معاملات کے لئے اپنے ڈرائیور اور رشتہ داروں کو تعینات کیا تھا۔
اس تنازع سے حکمران جماعت بی جے پی کے لیے بڑے سیاسی مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور یہ معاملات پارٹی کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ یہاں ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ اترپردیش (UP) اسمبلی انتخابات 2027 پر اثرات
اترپردیش یعنی یو پی میں وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت قائم ہے۔ جو کہ مسلم دشمنی میں پیش پیش اور ہندوتوا کا سرکردہ رہنما ہے۔ اسے آئندہ سال کے اوائل میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اترنا ہوگا۔ یہ بطور وزیراعلی یوگی کی تیسری مدت کے لئے انتخابی مہم ہوگی۔ اس لئے یوگی خود کو اس اسکینڈل سے دور رکھنے اور اپنے دامن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی (SP) اور کانگریس کے اتحاد نے اترپردیش میں بی جے پی کو پہلے ہی بڑا انتخابی دھچکا دیا تھا، اور اب رام مندر میں عطیات اور نذرانوں میں خورد برد کا یہ معاملہ حزبِ اختلاف کو بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط اور جذباتی ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ پارٹی کے ووٹوں میں کمی ہو یا پھر بنگال کی طرح یہاں بھی لاکھوں مخالف ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کر کے بی جے پی انتخابات کرائے تاکہ اس کی کام یابی یقینی ہوسکے۔
2۔ عقیدے پر ڈاکا، اپوزیشن کا جارحانہ بیانیہ
بھارتی جنتا پارٹی نے رام مندر کا نعرہ بلند کرکے حکومت بنائی تھی۔ اس لئے مالی عطیات کی چوری کا اسکینڈل آنے کے بعد بھارتی حزب اختلاف کی جماعتیں بی جے پی اور وزیرِ اعظم مودی کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ حزبِ اختلاف اسے عوام کی آستھا (عقیدے) پر ڈاکے سے تعبیر کررہی ہے۔ اور وہ مندر ٹرسٹ کی تحلیل اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے حکومت پر اخلاقی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
3۔ ہندوتوا بلاک کے اندرونی اختلافات اور غصہ
اس تنازع کی سب سے حساس کڑی یہ ہے کہ خود بی جے پی کے دیرینہ رہنما اور رام مندر تحریک کے کٹر حامی اور کئی معروف ہندو مذہبی سادھو سنت اس کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں۔ ان کو اصل غصہ مندر کے انتظام میں انہیں نظر انداز کرکے ٹرسٹ کو آر ایس ایس حکمران جماعت کے منظور نظر افراد کے حوالے کرنے کا بھی ہے۔ اس اسکینڈل نے انہیں ذاتی بھڑاس نکالنے اور لڑائی کا ایک موقع اور ایندھن فراہم کر دیا ہے۔ اور یہ لوگ جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں۔ ہندوتوا کی ان روایتی قوتوں کی یہ ناراضی بی جے پی کے بنیادی اور کٹر ووٹر بیس کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس پوری صورتحال میں بی جے پی بھی اپنا سیاسی بیانیہ سامنے لارہی ہے۔ اور اسے نچلے درجے کے چند ملازمین کا انفرادی فعل اور بددیانتی قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔
رام مندر بی جے پی کے لئے محض ایک مذہبی منصوبہ نہیں بلکہ ان کا سب سے مضبوط سیاسی برانڈ ہے۔ چندہ چوری کے انکشاف نے اس برانڈ پر ضرب لگائی ہے اور اسے کمزور کیا ہے۔ اگر بی جے پی شفاف تحقیقات اور فوری تطہیر کے ذریعے ہندو برادری اور بالخصوص اتر پردیش کے عوام کا اعتماد بحال نہیں کر پاتی تو 2027 کے ریاستی اور 2029 میں لوک سبھا کے انتخابات میں اسے سیاسی اور انتخابی میدان میں نقصان ہوسکتا ہے۔ اور ممکنہ طور پر بی جے پی کی حکومت پر گرفت کمزور پڑسکتی ہے۔ اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو مرکز میں نریندر مودی کی حکومت کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔


