The news is by your side.

Advertisement

وزارت داخلہ آئین کا مذاق اڑا رہی ہے، وکیل ایان علی

کراچی: ایان علی کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی۔ ماڈل گرل کے وکیل نے کہا وزارت داخلہ آئین کا مذاق اڑا رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں ڈالر گرل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس ميں سرکاری وکيل نے عدالت کو بتايا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

ايان علی کے وکيل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کی کارروائی یہاں کے کیس سے مختلف ہے اور وزارت داخلہ آئین کا مذاق اڑا رہی ہے۔فريقين کے وکلاء میں نوک جھونک پر عدالت نے برہمی کا اظہار کيا اور سماعت ملتوی کر دی۔

ایان علی کا نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالنے پرسپریم کورٹ برہم

واضح رہے کہ دو روز قبل ایان علی کا نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالنے پرسپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نےکہا تھا کہ بتایا جائے کہ نام ای سی ایل میں کس بنیاد پر ڈالا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایان علی دہشت گرد ہیں؟

سرکاری وکیل نےعدالت کو بتایا تھا کہ ایان علی قتل کی ایک ایف آئی آرمیں نامزد ہیں، عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا پنجاب میں درج قتل کی ہر ایف آئی آر کےملزمان کانام ای سی ایل میں ڈالا گیا؟

کیا ایف بی آر نے جن کو ٹیکس ادائیگی کےنوٹس دیئے، ان سب کےنام ای سی ایل میں ڈالےگئے؟ جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہا کہ عدالت کو اپنے احکامات پرعمل کروانا آتا ہے کیوں نہ سیکرٹری داخلہ کوجیل بھیج دیں۔

معززجج کا کہنا تھا کہ احکامات پرعمل نہیں ہوگا تو عدالت کو تالا لگا کرگھر نہیں چلےجائیں ؟ عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کردیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں