site
stats
پاکستان

ایان علی ای سی ایل کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ واپس سندھ ہائیکورٹ کوبھجوادیا

اسلام آباد : ایان علی ای سی ایل کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے معاملہ واپس سندھ ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایان علی کی مشکلات کم نہ ہوئیں ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے کیلئے تگ ودو جاری ہے، اسلام آباد میں ایان علی ای سی ایل کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے معاملہ واپس سندھ ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ریفری جج کو نو جنوری کو سماعت کرنے اور اسی ہفتے فیصلہ سنانے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران لطیف کھوسہ کا کہنا تھا وزارت داخلہ ایان علی پر کم اور دہشت گردی ختم کرنے پر زیادہ توجہ دیں، عدالت نے جرنل مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی اور جنرل نے عدالتوں پر دباؤ کے حوالے سے بیان دیا۔

جس پر نامزد چیف جسٹس ثاقب نثار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں آزاد ہیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کسی دباو کے بغیر فیصلے کرتی ہیں اور یہ قوت عدالتوں نے بار کی جدوجہد سے حاصل کی ہے۔

قبل ازیں عدالت نے ایان علی ای سی ایل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے ریفری جج کو ہداہت کی ہے کہ وہ ایان علی کیس کی سماعت سرما کی تعطیلات ختم ہونے کے پہلے روز یعنی نو جنوری کو شروع کریں اور اسی ہفتے میں فیصلہ سنائیں۔


مزید پڑھیں : کرنسی اسمگلنگ کیس، ایان علی کیخلاف مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی


لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اختلافی فیصلہ دیا اور ایک جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جتنا زور وزارت داخلہ نے ایان علی کو باہر جا نے سے روکنے میں لگا رکھا ہے اتنی کوشش دہشت گردی روکنے کے لیئے کہ جاتی تو دہشت گردی ختم ہو چکی ہوتی۔

نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ریمارکس آرٹیکل لکھنے کے کام آسکتے ہیں، ہمارے کسی کام کے نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک سندھ ہائیکورٹ حتمی فیصلہ نہیں کرتی سپریم کورٹ اپیل کی سماعت نہیں کرسکتا، دوججوں نے اختلافی فیصلہ دیا ہے، ریفری جج کافیصلہ آجائے تو اپیل کی سماعت فورا کر لینگے۔

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے حکم جاری کر کے ایان علی کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا تھا، مگر کراچی ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے ماڈل گرل کو بیرون ملک روانہ ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے نام خارج کرنے کے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے، جس کے بعد ماڈل گرل کو واپس روانہ کردیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top