یہ مختصر مضمون آج کے دور میں اخبار کی ایجاد و اشاعت، اس کی اہمیت، کسی ملک اور عام آدمی کے لیے اس کی ضرورت اور فوائد بیان کرتا ہے، مگر اس ڈیجیٹل دور میں اخبار بینی تو ایک طرف، کہا جا رہا ہے کہ ٹیلی ویژن نشریات دیکھنے والے بھی گھٹ رہے ہیں اور اس میڈیم پر بھی جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے پیوستہ پلیٹ فارمز حاوی ہو چکے ہیں۔ مگر وہ زمانہ بھی تھا جب اخبار کا بول بالا ہوا کرتا تھا اور اخباری صنعت میں روز افزوں ترقی دیکھی جارہی تھی۔ اس وقت اخبار ہندوستان میں مقبول بھی تھا اور ہر طبقۂ عوام کے لیے جہانِ حیرت بھی، جو اسے باقاعدگی سے خرید کر پڑھا کرتے تھے۔
ابوالکلام آزاد جیسے انشاء پرداز، صاحبِ اسلوب نثر نگار اور شاعر نے بھی اسی زمانہ میں اخبار نویسی پر یہ مضمون رقم کیا تھا۔ ملاحظہ کیجیے: یورپ اور امریکہ نے جو آج کل حیرت انگیز ترقی کی ہے، اور علوم و فنون، تہذیب و شائستگی میں جو ان کا آج طوطی بول رہا ہے، ان میں من جملہ اور اسبابِ ترقی سے ایک بڑا سبب اخبار دیکھنا ہے، جسے اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک اور بچّے سے لے کر بوڑھے تک روزانہ ہر ایک دیکھا کرتا ہے اور علمی و عملی فیوضات حاصل کرتا ہے۔ چوں کہ کچھ عرصہ سے ہندوستان اور پنجاب میں بھی اخباروں کا چرچا ہو رہا ہے۔ اکثر اردو اخبارات ترقی کر رہے ہیں، لوگوں کو ایک حد تک ان سے دل چسپی بھی ہو گئی ہے، اس لیے ہم اس فن کی مختصر تاریخ اور اس کے اقسام وغیرہ بیان کرتے ہیں۔
اخبار کا موجد
اس بارے میں سخت اختلاف ہے کہ اخبار کا موجد کون ہے، چین والے اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی ایجاد کرنے والے ہم ہیں۔ روما والے مدعی ہیں کہ جناب مسیح علیہ السلام سے کئی سال پیشتر ہم نے جاری کیا تھا۔ لیکن یہ تمام باتیں پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں، کیوں کہ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ فی الواقع اہل چین یا اہل روما اس کے موجد ہیں، اور سیکڑوں برس پہلے یہ شائع کر چکے ہیں تو بھی ان کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ ہم جس اخبار کا بیان کر رہے ہیں، اور اخبار سے جو مفہوم بالفعل سمجھا جاتا ہے، اِس میں اور اُس میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
انگلستان
انگلستان میں پہلے پہل اخبار ۱۶۲۲ء میں جاری ہوا۔ یہ وہی اخبار ہے جو آج کل ٹائمز کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ پہلے اس کا نام ویکلی نیوز تھا۔ پھر ۱۷۸۵ء سے ٹائمزکا نام اختیار کر چکا ہے، اس کے بعد ٹیٹلر وغیرہ اسٹیل اور اڈیسن نے شائع کیے، اور پھر گویا یہ راستہ سبھوں کو معلوم ہو گیا۔ لیکن اس کی اصل داغ بیل انگلستان میں ویکلی نیوز ہی نے ڈالی۔
فرانس
فرانس میں پہلا اخبار ۱۶۳۱ء میں شائع ہوا۔ جس کا نام گزٹ دی فرانس تھا۔ اس میں زیادہ تر ملکی معاملات پر بحث ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد بہت سے اخبار شائع ہوئے، لیکن ابتداء میں فرانس سے ۱۶۳۱ء ہی کو اخبار نکلا۔
روس
روس میں پہلا اخبار ۱۷۰۳ء میں شائع ہوا۔
امریکہ
یہ کون نہیں جانتا کہ جو ترقی امریکہ نے اخبارات میں کی ہے وہ یورپ کو نصیب نہیں ہوئی۔ بڑی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اخبار یہاں سے پہلے پہل ۱۷۰۳ء میں شائع ہوا۔ اس کا نام بوسٹن نیوز لیٹر تھا اور اس کا دفتر شمالی امریکہ میں تھا۔ اس سے قبل اہلِ امریکہ جانتے بھی نہ تھے کہ اخبار کیا چیز ہے۔ آج جو ترقی امریکہ کو نصیب ہوئی ہے وہ بہت کچھ اخبار ہی کی بدولت ہے۔
اخبار کی قسمیں
یورپ میں جہاں اس مفید اخبار نویسی نے اعلیٰ درجے کی ترقی کی ہے۔ اخبار کی بہت سی قسمیں ہو گئی ہیں۔ اور ہر ایک قسم کے اخبار ایک نہیں سیکڑوں شائع ہوتے ہیں۔ مگر اس کی مفید اقسام اور اعلیٰ مضامین یہ ہیں،
اقسام
گزٹ، میگزین، ریویو، جرنل وغیرہ
مضامین
مذہبی، تعلیمی، تجارتی، قومی، ٹیکنیکل وغیرہ
اخبار کی تعریف
چوں کہ اخبار کے بانی اور موجد اہلِ یورپ ہیں، اس لیے انہیں کی تعریف ہمارے نزدیک معتبر ہے۔ اخبار جمع ہے خبر کی۔ خبر کو انگریزی میں نیوز کہتے ہیں۔ نیوز میں چار حرف ہیں۔
NEWS یہ چار حرف ان چار لفظوں کا اشارہ کرتے ہیں،
(۱) N (اشارہ ہے) North کا جس کے معنی ہیں شمال۔
(۲) E (اشارہ ہے) East کا جس کے معنی ہیں مشرق۔
(۳) W (اشارہ ہے) West کا جس کے معنی ہیں مغرب۔
(۴) S (اشارہ ہے) South کا جس کے معنی ہیں جنوب۔
اب دیکھو کہ اس چھوٹے سے جملے میں کتنی بڑی وسعت ہے کہ جہات اربعہ کو لیے ہوئے ہے۔ بس اخبار کی تعریف یہ ہوئی کہ وہ مجموعہ اک وقتِ معین پر شائع ہونے والا جس میں مغرب، مشرق، جنوب، شمال کی تمام خبریں اور ان جہاتِ اربعہ کے متعلق مفید باتیں درج ہوں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


