اسلام آباد (07 جون 2026): وزیر اعظم آزاد کشمیر نے دو ٹوک کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر طالبان خارجیوں کے حامی ہیں، سیاست کے نام پر انتشار پھیلانے والوں سے اب کسی قسم کی بات نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مخصوص سیاسی جتھے اور ٹرولز اس وقت آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں، ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ ریاست پر دھاوا بولنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست پرامن احتجاج کا حق تو دیتی ہے لیکن بلیک میلنگ یا یرغمال بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
دریں اثنا، فیصل ممتاز راٹھور کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی، ذرائع نے بتایا کہ فیصل ممتاز نے آزاد کشمیرکی مجموعی صورت حال اور حکومتی کارکردگی پر بلاول کو بریفنگ دی۔ اس سے قبل وزیر اعظم آزاد کشمیر کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔
آزاد کشمیر میں مظاہرین کے کتنے نکات مانے گئے؟ بیرسٹر عقیل ملک نے بتا دیا
دوسری طرف وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک پریشر گروپ کام کر رہا ہے، شرائط نہ ماننے کی باتیں حقائق کے منافی ہیں، 38 میں سے 32 مطالبات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے، 19 مطالبات ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے پورے کیے گئے اور کچھ مطالبات ایسے ہیں جس میں اربوں روپے کے فنڈز درکار ہیں، اس میں وقت لگے گا۔
انھوں نے کہا حکومت نے کچھ فنڈز جاری کر دیے ہیں اور کچھ جاری کرنے ہیں، معاہدے کے مطابق 177 مقدمات ختم کر دیے گئے، متاثرین کو اتنا معاوضہ دیا گیا جتنا پولیس شہدا کو دیا جاتا ہے۔


