اسلام آباد (06 جون 2026): آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال پر حکومت نے ریاست میں آج سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی۔
حکومت نے آزاد کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس آج سے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے، سروسز 12 جون تک بند رہیں گی، سیاحت و دیگر مقاصد کے لیے آنے والے افراد کے لیے بھی حکومت آزاد کشمیر نے ایڈوائزری جاری کر دی، اور کہا کہ 20 جون تک آزاد کشمیر کے سفر سے گریز کیا جائے۔
احتجاجی کال کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کے 1500 سے زائد افسران و اہلکاروں پر مشتمل فورس آزاد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بھی احتجاج پر اصرار عوامی مفاد نہیں بلکہ سیاسی ضد ہے۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے ساتھ 9 جون کو ہڑتال اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار
دوسری جانب حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے جموں و کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک کالعدم تنظیم قرار دے کر صورت حال مزید سنگین کر دی ہے، جموں وکشمیر ایکشن کمیٹی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی تنظیم فرسٹ شیڈول میں شامل کر دی گئی ہے۔
اس کا نوٹیفکیشن حکومت آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جاری کیا ہے، جس نے تنظیم کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیا، صدر آزاد جموں و کشمیر نے بھی اس کی منظوری دی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں، تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیم عوام کو خوف زدہ کرنے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں ملوث ہے۔ نوٹیفکیشن میں تنظیم پر نفرت کو فروغ دینے اور ریاستی امن متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


