لاہور (18 جنوری 2026): وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کو جیل میں اسی لیے رکھا جاتا ہے کہ وہ سیاسی معاملات نہ کرے۔
اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جس دن حلف لیا اسی دن اپوزیشن کو مذاکرات کی بات کی تھی، ہم نے کہا تھا کہ باقی معاملات چھوڑیں آئین میثاق معیشت کریں، دو چار افراد کی رہائی ایک طرف لوگوں نے آپ کو فلاح کیلیے ووٹ دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے کہا میں نے ہمیشہ وزیر اعظم نہیں رہنا: اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون نے کہا کہ جیل میں ملاقات ایک قانونی معاملہ ہے، ایک سزا یافتہ شخص کو جیل میں اسی لیے رکھا جاتا ہے کہ وہ سیاسی معاملات نہ کرے، جو چیز براہ راست ممکن نہیں وہ بالواسطہ بھی ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے بھی ہیں کہ سزا یافتہ شخص ملکی سیاست نہیں چلاتا، سمجھ نہیں آتی اپوزیشن ہر معاملے میں کہتی ہے عمران خان سے مشاورت کرنی ہے، اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی معاملات کا بھی طریقہ کار ہوتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


