The news is by your side.

Advertisement

’ نسلی تعصب کی وجہ سے زبردستی شراب پلائی گئی‘ : پاکستانی نژاد کرکٹر کے انکشافات

مانچسٹر: انگلش کاؤنٹی کرکٹ کلب یارکشائر کے سابق پاکستانی نژاد برطانوی کرکٹر  عظیم رفیق نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں متعدد بار نسلی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عظیم رفیق نے برطانوی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی سے منگل کے روز ملاقات کی اور اپنے ساتھ پیش آنے والے نسلی تعصب کے واقعات کے حوالے سے اراکین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پندرہ سال کی عمر میں ایک کھلاڑی نے زبردستی شراب پلائی، بعد میں جب مستقل شراب نوشی سے انکار کیا تو مجھے کلب اور کرکٹرز کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کلب میں ساتھیوں کے ساتھ گھلنے ملنے کی وجہ سے میں نے 9 سال پہلے 2012 میں مجبورا  شراب نوشی شروع کی، جس پر مجھے بہت زیادہ ندامت ہے۔

عظیم رفیق نے انکشاف کیا کہ انہیں کلب انتظامیہ اور ساتھیوں کے سامنے حریف کھلاڑیوں نے مسلمان اور پاکستانی نژاد ہونے کی وجہ سے نسلی تعصب کا نشانہ بنایا اور بدترین تضحیک کی، یہ معاملہ جب اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا تو انہوں نے ایک لفظ نہ بولا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ادارے کی سطح پر  نسل پرستی موجود ہے، میری شکایات کی شنوائی نہ ہوئی تو خود کو تنہا اور انتہائی گرا ہوا انسان سمجھ کر خودکشی کا بھی سوچ لیا تھا مگرپھر اہل خانہ نے علاج کروایا اور پھر زندگی کا نیا آغاز ہوا۔

دوسری جانب انگلش کاؤنٹی نے قائمہ کمیٹی کے سامنے یپش ہوکر عظیم رفیق سے معافی مانگی اور قصور واروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر عظیم رفیق نے بتایا کہ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنا میرا اور اہل خانہ کا دیرینہ خواب تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں