پاکستان اور ترکیہ کے بعد آذربائیجان کا کہنا ہے کہ اس نے ٹرمپ کے غزہ ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
آذربائیجان نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ان کے "بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "آذربائیجان، ہمیشہ کی طرح، بین الاقوامی تعاون، امن اور استحکام کے لیے فعال طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔”
آذربائیجان اور آرمینیا نگورنو کاراباخ کے پہاڑی علاقے پر تقریباً چار دہائیوں تک جنگ میں رہے اور گزشتہ اگست میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکا کی ثالثی میں امن معاہدہ طے پایا۔
آرمینیائی وزیر اعظم نکول پشینیان منگل کو ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس” میں شامل ہوئے ہیں۔
پاکستان
پاکستان اور ترکیہ نے غزہ میں پائیدار امن کیلیے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کیلیے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی، اس میں شمولیت غزہ امن منصوبے اور یو این لہ قرارداد 2803 کے تحت کی جا رہی ہے۔
ترکیہ
ترکیہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حکان فدان ڈیووس میں بورڈ اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔
ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی امن کیلیے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار ہے، ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع ہے۔
امریکا
وائٹ ہاؤس کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے بورڈ آف پیس کا مقصد محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت غزہ کے عارضی نظام حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔
گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس کے کئی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
امریکی صدر خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے۔
بورڈ کا قیام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو انہوں نے غزہ جنگ کے خاتمے کیلیے پیش کیا۔ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کے زیر نگرانی کام کرے گی جو عبوری دور کے دوران غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی کرے گا۔
واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کیلیے نامزد زیادہ تر افراد اسرائیل اور اس کی غزہ جنگ کے بڑے حامی رہے ہیں۔ فلسطینیوں کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ارکان انصاف، تعمیر نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


