کراچی: قومی ٹیم کے سابق کوچ اور مایہ ناز سابق آل راؤنڈر اظہر محمود نے کہا ہے کہ جہاں تک پچھلے میچ کی بات ہے میں فہیم اشرف کا شکریہ ادا کرنا چاہو ں گا کہ جس طرح اُس نے آخری اوورز میں جاکر رنز کئے اور پاکستان کو جیت نصیب ہوئی۔
نجی چینل پر بات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کوچ اظہر محمود نے کہا کہ جو میچ کی صورتحال تھی 58 رنز چاہئے تھے، 58 بالز پر، مگر ہم Back to Back وکٹیں گنواتے رہے، اس سے پریشر آتا ہے۔
اظہر محمود نے کہا کہ ہمارا مڈل آرڈر بائی فورس بنا ہوا ہے، آپ بابر کو نمبر 4 پر بیٹنگ کروا رہے ہیں، عثمان کو نمبر 5 پر کروا رہے ہیں، یہ دونوں اوپر کھیلنے والے بندے ہیں۔
ہم نے پچھلی سیریز میں دیکھا تھا کہ عبدالصمد کو ہم لے کر آئے، اس سے پہلے ہم نے حسن نوازکے لئے یہ بات بولی تھی کہ یہ اب ہمیں ایسا پلیئر مل گیا ہے جو چھکے مار سکتا ہے، تو ہم اس کو نمبر 5 یا 6 پر کھلائیں گے، مگر آپ نے کیا کیا؟ اُن کو ہٹا کر آپ بابر کو لے کر آئے، پاکستان کی موجودہ ٹیم میں کوئی مڈل آرڈر نہیں ہے۔
اظہر محمود نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ بابر کا رول بہت Important ہے، مگر میں یہاں ایک چیز کہنا چاہوں گا کہ بابر نے ساری عمر بیٹنگ کی ہے ٹی ٹوئنٹی میں آف دی آرڈر اور اسی طرح عثمان نے بھی آف دی آرڈر بیٹنگ کی ہے، تو ان کے لئے نیچے آنا صحیح نہیں۔
سابق کوچ کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ٹاپ 3 نمبر بڑا آسان ہوتا ہے بیٹنگ کرنے کے لئے، جیسے ہی آپ اس سے نیچے آتے ہیں تو بال سافٹ ہوجاتا ہے، ان پچز پر بال ٹرن اور گرپ ہونا شروع ہوجاتا ہے، یہ آسان نہیں ہوتا کہ آپ جاکر اسکور کریں، وہاں پر ایسا پلیئر آپ کو چاہئے جو سنگل ڈبل لے سکے اور بانڈریز بھی ہٹ کرسکے۔
جب سے مائیک ہیسن آئے ہیں ہم میچز تو جیتے ہیں مگر وہ اس طرح جیتے ہیں کہ کبھی محمد نواز چل گئے، فہیم اشرف چل گئے، کبھی نیچے شاہین نے رنز کردیئے، اس طرح آپ میچز جیتے ہیں، کیونکہ آپ کا مڈل آرڈر صحیح ترتیب سے نہیں ہے۔
پی ایس ایل میں دو ٹیموں کے اضافے سے کرکٹ اوپر جائے گی، اظہر محمود
ٹیم میں مڈل آرڈر پر آنے والے کھلاڑیوں پر بہت زیادہ پریشر آجاتا ہے، اُسے آپ کو میچ جتواکر دینا ہوتا ہے، بڑے اسکور پر اگر آپ کا مڈل آرڈر اچھا پرفارم نہیں کرتا تو آپ کو مشکل ہوسکتی ہے، ٹی ٹوئنٹی میں کوئی بھی ٹیم ہلکی نہیں ہوتی، 2 یا 3 وکٹیں گر جائیں تو ٹیم پریشر میں آجاتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


