The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن اور عدلیہ مخالف مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کے دفتر میں چوری

نا معلوم شخص اظہر صدیق کے دفتر سے لیپ ٹاپ اور اہم دستاویزات لے اڑا

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاون اور نواز مریم عدلیہ مخالف بیانات کیس سمیت اہم مقدمات میں حکومت کے خلاف پیش ہونے والے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے دفتر میں چوری کی واردات، نامعلوم شخص نقب لگا کر لیپ ٹاپ اور دستاویزات لے اڑا۔

تفصیلات کے مطابق اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے دفتر میں گزشتہ شب ایک نامعلوم شخص نقب لگا کر داخل ہوا ، اور لیپ ٹاپ سمیت اہم دستاویز لے کر رفو چکر ہوگیا، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ واردات میں ملوث شخص کو معاونت فراہم کی گئی۔

اے آر وائی نیوز کو موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دیوار میں سوراخ کرنے کے بعد نامعلوم شخص دفترمیں گھسا اور لیپ ٹاپ کے علاوہ قیمتی دستاویزات لے کر رفو چکر ہوگیا، دوسری فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے موبائل کیمرے سے اظہر صدیق کے دفتر کے چکر لگاتے ہوئے فوٹیج اور تصاویر بنانے میں مصروف ہے،فوٹیجز سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات کرنے والے شخص کو معاونت فراہم کی گئی۔

واقعہ سے متعلق بات کرتے ہوئے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور مختلف مقدمات کی پیروی سے باز رہنے کی دھمکی ہے،واقعہ سے قبل کی جانے والی ریکی سے سارے معاملے کی قلعی کھل جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند دن قبل اسلام آباد ائر پورٹ پر پرویز رشید نے انھیں حکومت مخالف مقدمات میں پیش ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں تاہم وہ کسی قسم کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔

نوازشریف/مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریرنشرکرنے پرعبوری پابندی عائد

یاد رہے کہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقریروں کی روک تھام کے لیے دائر کردہ درخواست کی پیروی کررہے ہیں ، گزشتہ سماعت میں انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے سے روکنے میں ناکام رہا، اس حوالے سے متعدد درخواستیں دیں مگر اس پر کارروائی نہیں کی گئی، آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق قانون اور ضابطے سے مشروط ہے۔

فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے عبوری طور پر پیمرا کو نواز شریف مریم نواز سمیت سولہ اراکین اسمبلی کی توہین آمیز نشریات روکنے کا حکم دے دیا تھا ۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق درخواستوں پر پندرہ روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں