یہ تذکرہ ہے ضلع اعظم گڑھ کے علاقہ بندی کلاں کے عبداللطیف اعظمی کا جو متحدہ ہندوستان میں 1917 میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام علمی و ادبی محقق، اور کئی کتابوں کے مصنف کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اعظمی صاحب اپنے کتب خانوں کے منتظم، متعدد رسائل کے مدیر اور شعبۂ تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے۔ انھوں نے سرسید، اقبال، گاندھی، مولانا محمد علی جوہر، جواہر لعل نہرو، بابائے اردو مولوی عبدالحق پر کتب کے علاوہ تراجم بھی یادگار چھوڑے ہیں۔
عبداللطیف اعظمی کی پیدائش سے چندماہ قبل ان کے والد طاعون کا شکار ہوکر وفات پاگئے اور ان کی عمر چار یا پانچ برس رہی ہو گی جب آغوشِ مادر سے بھی محروم ہوگئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کا آغاز کیا اور ساتھ ساتھ اپنے علمی ذوق و شوق اور تصنیفی کام بھی جاری رکھا۔ ان کی زندگی کی یہ چند جھلکیاں اعظمی صاحب کی شریکِ سفر بیگم نفیسہ لطیف کے قلم سے نکلی ہیں۔ بیگم صاحبہ لکھتی ہیں:
جب ملک کو آزادی ملی تو اس وقت لطیف صاحب قرول باغ میں تھے۔ ستمبر کے مہینے میں جب دہلی میں فسادات شروع ہوئے تو مکتبہ جامعہ میں آگ لگا دی گئی اور کتب خانے کو لوٹ لیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے سے ایک روز پہلے ہی لطیف صاحب اور جامعہ کے وہ لوگ جو قرول باغ میں تھے، وہاں سے نکل کر جامع مسجد کے علاقے میں آگئے تھے۔ یہاں دو ڈھائی مہینے ایک مہاجر کی طرح زندگی گزارنی پڑی۔ مگر لطیف صاحب پر اس کا کوئی اثر نہیں تھا، کرفیو کے اوقات میں بھی سٹرکوں پر گھوما کرتے تھے۔ کہتے تھے، انسانی درندگی کو دیکھنے کا شاید پھر موقع نہ ملے، اس لیے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ جامعہ کے دوسرے لوگوں کی جو اس خطرناک حالت میں گھر سے نکلنے کی ہمت نہیں کرتے تھے، ان کی مدد کرتے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتے۔ ایک مرتبہ جامع مسجد کے علاقے میں کرفیو کے اوقات میں انسانی بربریت کا مشاہدہ کر رہے تھے کہ اچانک ایک پولیس انسپکڑ نے دیکھ لیا، اس نے آواز دی۔ یہ اس کے پاس گئے اور اکڑ کر اس کو کرفیو پاس دکھایا۔ اس نے محبت کے انداز میں جھڑک کر کہا۔ اگر کہیں مٹی کا تیل مل جائے تو اس میں آگ لگا دو۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں، کیا کوئی گولی مارنے سے پہلے کرفیو پاس دیکھے گا؟
کوئی دو ڈھائی مہینے کے بعد جب دہلی کے حالات کچھ بہتر ہوئے تو جامعہ نگر آئے۔ اس زمانے میں ڈاک کی آمد و رفت بند تھی۔ اس لیے لطیف صاحب کے گھر والوں کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس لیے وہ لوگ ان کی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے۔ جب ڈاک کا راستہ کھلا تو انھیں لطیف صاحب کی خیریت کی اطلاع ملی۔ ظاہر ہے اس پر انھیں غیر معمولی خوشی ہوئی۔
جامعہ نگر آئے تو معلوم ہوا کہ ان کے استاد پروفیسر ای جی کیلاٹ صاحب نے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مسلح دستہ تیار کیا تھا۔ لطیف صاحب بھی اس میں شامل ہو گئے۔ کہتے تھے کہ مجھے بندوق چلانے کا بالکل تجربہ نہیں تھا، دوسرے ہمیں جو کارتوس ملے تھے، ان کے بارے میں یقین سے کہنا مشکل تھا کہ ضرورت پڑنے پر وہ چل بھی سکیں گے یا نہیں، مگر وہ اس دستے میں صرف اس لیے شریک ہو گئے کہ ان لوگوں کو چائے ملتی تھی، اس کے علاوہ رات کا وقت گپ شپ میں کٹ جاتا تھا، ورنہ اس زمانے میں رات کا وقت گزارنا آسان نہیں تھا۔
لطیف صاحب ایک طویل عرصے تک تنہا رہے لیکن ۱۹۵۱ء میں جب جامعہ میں اسٹاف کوارٹر تیار ہوئے اور انھیں ایک کوارٹر الاٹ ہو گیا تو مجھے بلالیا مگر جب تک گھریلو زندگی کے عادی نہیں تھے، اس لیے ان کی آزادہ روی اب بھی برقرار رہی اور ان کے اوقات کا بیش تر حصّہ گھر کے باہر گزرتا۔ دفتر کے بعد زیادہ تر وقت علمی و ادبی جلسوں اور اسٹاف کلب (انجمن اساتذۂ جامعہ) کی سرگرمیوں میں صرف ہوتا۔ اسپورٹس سے انھیں ہمیشہ دلچپسی رہی ہے۔ ہاکی، فٹ بال اور اور والی بال بھی کھیلتے تھے مگر طالب علمی کے بعد صرف بیڈ منٹن کھیلا کرتے، لیکن اسی زمانے میں نہ جانے کیوں کر برج کھیلے کا چسکا لگ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا رات کے ایک ایک دو دو بجے تک اسٹاف کلب میں وقت گزرتا۔ خدا خدا کر کے کسی طرح یہ عادت چھوٹی تو شہرکی آمد و رفت بڑھ گئی۔ جب سے تحقیق کا خبط پیدا ہوا ہے زندگی کا بڑا حصّہ لائبریریوں میں گزرتا ہے۔ جامعہ کی لائبریری کی بھی تعریف کرتے ہیں، مگر ان کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس لیے دلّی کی دوسری لائبریریوں کے چکر لگاتے ہیں اور موقع ہو یا نہ ہو علی گڑھ پہنچ جاتے ہیں اور اللہ توفیق دیتا ہے تو پٹنہ اور لاہور کی بھی سیر ہو جاتی ہے۔ گویا ان کی گھریلو زندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویسے گھر کے کام کاج میں بھی دل چسپی لیتے ہیں مگر یہاں بھی ان کی شان نرالی ہے۔ کسی ضروری کام سے گھر سے نکلے اور کسی دوست کے یہاں بیٹھ گئے اور گپ شپ یا بحث مباحثے میں اس طرح کھو جاتے ہیں کہ جس ضروری کام کے لیے گئے تھے وہ خود بخود رفع ہو جاتا ہے۔
غالب نے کہا تھا، ’’ایک ہنگامے پر موقوف ہے گھر کی رونق۔‘‘ اس لحاظ سے ہمارے گھر میں بڑی رونق رہا کرتی ہے جب کہ پہلے لکھ چکی ہوں، ان کا بیشتر وقت شہر میں ہی گزرتا ہے اور رات کے گیارہ، ساڑھے گیارہ بجے واپس آتے ہیں اور میری کمزوری یہ ہے کہ جب تک پہلے سے مجھے معلوم نہ ہو کہ کھانا باہر ہے، میں کھانے پر انتظار کرتی ہوں، چاہے رات کے بارہ ہی کیوں نہ بج جائیں۔ اب جب یہ معمول بن جائے کہ رات کے دس گیارہ بجے کھانا کھایا جائے تو غالب کے الفاظ میں گھر میں رونق نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟
اگر آپ ان کے سونے کا کمرہ دیکھ لیں تو آپ اسے کباڑیے کی دکان سمجھیں گے۔ ہر طرف کتابوں اور رسالوں کے ڈھیر نظر آئیں گے اور مسہری کے نصف حصے میں کتابیں نظر آئیں گی۔ اگر اس پر ٹوکیے تو بڑے مزے سے فرمائیں گے: ’’ایک مصنف اور محقق کا کمرہ ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘
لطیف صاحب کی زندگی میں جو بے ترتیبی، بے نظمی اور عدم توازن ہے، اس کی وجہ سے غصہ ضرور آتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہ غصہ قابو سے باہر ہی ہو جاتا ہے، مگر جس خلوص اور محنت سے لکھنے پڑھنے میں لگے رہتے ہیں اس کی وجہ سے ہمدردی بھی پیدا ہوتی ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے، جذبۂ شوق اور زیادہ۔


